فیفا کونسل کا 14 ارب ڈالر کا ریکارڈ ترقیاتی بجٹ اور خواتین کے فٹ بال کے لیے انقلابی اصلاحات کی منظوری خرم شہزاد

زیورخ ۔20مارچ (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے اپنے حالیہ کونسل اجلاس میں کھیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اہداف، خواتین کے فٹ بال کے لیے دور رس نتائج کے حامل نئے قوانین اور فلسطین کی شکایت پر اسرائیل کے خلاف اہم تادیبی فیصلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ فیفا صدر جیانی انفینٹینو نے "فٹ بال دنیا کو جوڑتا ہے" کے فلسفے کے تحت کھیل …

زیورخ ۔20مارچ (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے اپنے حالیہ کونسل اجلاس میں کھیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اہداف، خواتین کے فٹ بال کے لیے دور رس نتائج کے حامل نئے قوانین اور فلسطین کی شکایت پر اسرائیل کے خلاف اہم تادیبی فیصلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ فیفا صدر جیانی انفینٹینو نے "فٹ بال دنیا کو جوڑتا ہے” کے فلسفے کے تحت کھیل کو امن، باہمی احترام اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیفا جغرافیائی تنازعات تو حل نہیں کر سکتا، لیکن فٹ بال کی طاقت سے دشمنیوں کے درمیان پل ضرور بنا سکتا ہے۔اجلاس کے ایک اہم فیصلے میں فیفا ڈسپلنری کمیٹی نے فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے)کو ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق اسرائیلی ایسوسی ایشن امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے حوالے سے فیفا کے متعلقہ آرٹیکلز کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئی، جس کے نتیجے میں ان پر 1 لاکھ 50 ہزار سوئس فرانک کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اگلے تین ہوم میچوں میں اسٹیڈیم کے نمایاں حصوں پر "فٹ بال دنیا کو متحد کرتا ہے ۔ امتیازی سلوک کو نہ کہیں” کے بڑے بینرز آویزاں کرے اور نسل پرستی کے خاتمے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ پیش کرے۔مالیاتی محاذ پر فیفا نے فٹ بال کی عالمی ترقی کے لیے اب تک کے سب سے بڑے بجٹ کی منظوری دی ہے۔

سال 2027 سے 2030 کے لیے 14 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا بڑا حصہ رکن ممالک میں کھیل کے بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت پر خرچ کیا جائے گا۔ فیفا فارورڈ پروگرام کے تحت ترقیاتی سرمایہ کاری کو بڑھا کر 2.7 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے، جو کہ 2016 کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں فٹ بال کے معیار کو یکساں طور پر بلند کرنا ہے۔خواتین کے فٹ بال کو بااختیار بنانے کے لیے فیفا نے ایک تاریخی ریگولیٹری تبدیلی متعارف کرائی ہے۔ اب سے فیفا کے تمام خواتین مقابلوں میں یہ لازمی ہوگا کہ ٹیم کے ہیڈ کوچ یا کم از کم ایک اسسٹنٹ کوچ، ایک طبی عملہ اور بینچ پر موجود دو آفیشلز خواتین ہی ہوں۔

اس کے ساتھ ہی 2031 کے ویمن ورلڈ کپ کے لیے میزبانی کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے 2026 کے آخر تک ایک خصوصی کانگریس بلانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس میں پہلی بار 48 ٹیمیں شرکت کریں گی۔فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری پیچیدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیفا کونسل نے واضح کیا کہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کلبوں کی شرکت کے معاملے پر فی الحال کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس خطے کی قانونی حیثیت ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ تاہم، فیفا نے عزم ظاہر کیا کہ وہ دونوں ممالک کی فٹ بال ایسوسی ایشنز کے درمیان آپریشنل سطح پر مذاکرات اور ثالثی کا عمل جاری رکھے گا تاکہ کھیل کو سیاسی اثرات سے پاک رکھ کر کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

آخر میں کونسل نے عالمی سطح پر کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے "فیفا سیف گارڈنگ پالیسی” کی منظوری دی تاکہ کھیل کے ماحول کو ہر قسم کے ہراساں کیے جانے اور بدسلوکی سے پاک رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے "آسیان کپ” اور مراکش میں ہونے والے "انڈر 17 ویمن ورلڈ کپ” کی تاریخوں کا بھی اعلان کیا گیا، جو اکتوبر 2026 میں منعقد ہوگا۔