جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کے لیے بغاوت کے مقدمے میں 30 سال قید کی استدعا

جنوبی کوریا میں خصوصی پراسیکیوٹر نے سابق صدر یون سک یول کو سنگین غداری کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کر دی ہے۔

اسلام آباد۔24اپریل (اے پی پی):جنوبی کوریا میں خصوصی پراسیکیوٹر نے سابق صدر یون سک یول کو سنگین غداری کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کر دی ہے۔

شنہوا کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم، جس کی قیادت چو ایون سک کر رہی ہیں، نے عدالت سے درخواست کی کہ یون سک یول کو ایسے اقدامات پر سزا دی جائے جن سے ملک کے عسکری مفادات کو نقصان پہنچا اور دشمن کو فائدہ ہوا۔استغاثہ کے مطابق سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت میں ڈرون بھیجنے کا حکم دیا، جس کا شمالی کوریا کو اشتعال دلانا اور بعد ازاں دسمبر میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔

پراسیکیوٹرز کا مؤقف ہے کہ اس ڈرون کارروائی نے دونوں کوریاؤں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا اور ایک حادثے کے نتیجے میں حساس فوجی معلومات کے افشا ہونے سے جنوبی کوریا کے دفاعی مفادات کو نقصان پہنچا۔خصوصی ٹیم نے سابق وزیر دفاع کم یونگ ہیون کے لیے بھی 25 سال قید کی سزا کی سفارش کی ہے۔

یاد رہے کہ یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کی شب ملک میں ہنگامی مارشل لا نافذ کیا تھا، جسے چند گھنٹوں بعد پارلیمنٹ نے ختم کر دیا۔ بعد ازاں انہیں جنوری 2025 میں بغاوت کے مرکزی کردار کے طور پر گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی گئی، اور وہ اس نوعیت کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پہلے برسرِ اقتدار صدر بن گئے۔