یورپی یونین کا ایکٹ کاری میں رکاوٹ اور امتیازی سلوک قرار، چین کا اظہارِ تشویش

چین کی وزارتِ تجارت نے یورپی یونین کے صنعتی ایکٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑی رکاوٹ اور ادارہ جاتی امتیاز قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بیجنگ۔27اپریل (اے پی پی):چین کی وزارتِ تجارت نے یورپی یونین کے صنعتی ایکٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑی رکاوٹ اور ادارہ جاتی امتیاز قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق وزارت کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کا "انڈسٹریل ایکسیلیریٹر ایکٹ” بیٹریز، الیکٹرک گاڑیوں، فوٹو وولٹائکس اور اہم خام مال جیسے چار اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر متعدد پابندیاں عائد کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون میں یورپی یونین کے مقامی ماخذ سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں، جو سرکاری خریداری اور معاونت کی پالیسیوں میں امتیازی نوعیت رکھتی ہیں۔

چینی وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے یورپی کمیشن کو باضابطہ طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے تبصرے جمع کرا دیے ہیں۔چین کے مطابق یہ قانون عالمی تجارتی اصولوں، خصوصاً "برابر سلوک” اور "سب سے زیادہ پسندیدہ ملک” جیسے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کرے گا بلکہ یورپی یونین کی گرین ٹرانزیشن کو بھی سست کر سکتا ہے اور منصفانہ مسابقت کو متاثر کرے گا۔

چین نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف امتیازی شرائط، مقامی مواد کی لازمی شرط، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تقاضے اور سرکاری خریداری میں پابندیاں ختم کرے۔ترجمان نے واضح کیا کہ چین قانون سازی کے عمل پر گہری نظر رکھے گا اور یورپی یونین کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم اگر چینی کمپنیوں کے مفادات کو نقصان پہنچا تو مناسب جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔