وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کیلئے 43 کھرب 95 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کیلئے 43 کھرب 95 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا معاشرہ کے کمزور طبقات کی سہولت کیلئے متعدد اقدامات، ترقیاتی ایجنڈے، بہتر مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے خسارہ کو کم کرنے، معاشی استحکام کو تقویت دینے، محصولات، سرمایہ کاری و برآمدات میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، بجٹ میں معیشت کے مختلف شعبوں خاص طور پر …

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کیلئے 43 کھرب 95 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا
معاشرہ کے کمزور طبقات کی سہولت کیلئے متعدد اقدامات، ترقیاتی ایجنڈے، بہتر مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے خسارہ کو کم کرنے، معاشی استحکام کو تقویت دینے، محصولات، سرمایہ کاری و برآمدات میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، بجٹ میں معیشت کے مختلف شعبوں خاص طور پر زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کا اعلان ،
سرکاری ملازمین کےلئے 2013ءاور 2014ءکے عارضی اضافہ کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو یکم جولائی 2016ءسے رواں بنیادی تنخواہ پر 10فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا، مزدور طبقے کی بہبود کےلئے کم از کم اجرت کی شرح کو 13000روپے ماہانہ سے بڑھا کر 14000روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے،
پاکستان کی صنعتی برآمدات کے 5 بڑے شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑے، قالین بافی، کھیلوں کی مصنوعات اور سرجری کے آلات کو زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کے نظام کے تحت کر دیا جائے گا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2016-17ءکے بجٹ میں اسے مزید بڑھا کر 115 ارب روپے کیا جا رہا ہے، پاکستان بیت المال کے بجٹ کو دو گنا کرکے چار ارب روپے کردیا گیا ہے،تین سالہ بجٹ حکمت عملی کے تحت جی ڈی پی کی شرح نمو کو مالی سال 2018-19ءتک بتدریج 7 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ افراط زر کو سنگل ڈیجٹ تک رکھا جائے گا۔ سرمایہ کاری کی شرح کو 21 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ مالی خسارہ کم کرکے جی ڈی پی کے 3.5فیصد تک لایاجائے گا۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو14فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو 30ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔
اسلام آباد ۔ 3 جون(اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 2016-17ءکیلئے تقریباً 43 کھرب 95 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں عوام بالخصوص معاشرہ کے کمزور طبقات کی سہولت کیلئے متعدد اقدامات، ترقیاتی ایجنڈے، بہتر مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے خسارہ کو کم کرنے، معاشی استحکام کو تقویت دینے، محصولات، سرمایہ کاری و برآمدات میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، بجٹ میں معیشت کے مختلف شعبوں خاص طور پر زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کےلئے 2013ءاور 2014ءکے عارضی اضافہ کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو یکم جولائی 2016ءسے رواں بنیادی تنخواہ پر 10فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا، مزدور طبقے کی بہبود کےلئے کم از کم اجرت کی شرح کو 13000روپے ماہانہ سے بڑھا کر 14000روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے، پاکستان کی صنعتی برآمدات کے 5 بڑے شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑے، قالین بافی، کھیلوں کی مصنوعات اور سرجری کے آلات کو زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کے نظام کے تحت کر دیا جائے گا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2016-17ءکے بجٹ میں اسے مزید بڑھا کر 115 ارب روپے کیا جا رہا ہے، پاکستان بیت المال کے بجٹ کو دو گنا کرکے چار ارب روپے کردیا گیا ہے،تین سالہ بجٹ حکمت عملی کے تحت جی ڈی پی کی شرح نمو کو مالی سال 2018-19ءتک بتدریج 7 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ افراط زر کو سنگل ڈیجٹ تک رکھا جائے گا۔

مزید خبریں

Leave a Reply