پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ون ڈے سیریز میں شاداب خان توقعات پر پورا نہیں اتر سکے،مائیک ہیسن

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ون ڈے سیریز میں شاداب خان کی واپسی مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

لاہور۔3جون (اے پی پی):پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ون ڈے سیریز میں شاداب خان کی واپسی مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی بار ون ڈے ٹیم میں شامل کیے گئے شاداب اب تک اپنی بولنگ سے توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، حالانکہ پاکستانی ٹیم مینجمنٹ انہیں ایک نئے کردار میں دیکھ رہی ہے۔آسٹریلیا کے خلاف پہلے دو ون ڈے میچز میں شاداب خان سب سے مہنگے پاکستانی بولر ثابت ہوئے۔ انہوں نے دو میچز میں 110 رنز دیے اور ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے، جبکہ پچز سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جا رہی تھیں۔ اس سے پہلے بھی وہ مسلسل تین ون ڈے میچز میں وکٹ لینے میں ناکام رہے تھے، جبکہ آخری بار انہوں نے ایک اننگز میں ایک سے زیادہ وکٹیں 2023 ایشیا کپ میں نیپال کے خلاف حاصل کی تھیں۔

شاداب کی ٹیم میں شمولیت پر سوالات اس لیے بھی اٹھے کیونکہ وہ کافی عرصے سے 50 اوورز کی کرکٹ سے دور تھے اور اپنا آخری لسٹ اے میچ اکتوبر 2024 میں کھیلا تھا۔ مزید یہ کہ سکواڈ میں صوفیان مقیم، ابرار احمد اور نوجوان ارافات منہاس جیسے سپنرز بھی موجود تھے۔ عرفات منہاس نے تو اپنے ڈیبیو میچ میں ہی 5 وکٹیں لے کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔تاہم شاداب نے دوسرے ون ڈے میں اپنی بیٹنگ سے ناقدین کو جواب دینے کی کوشش کی۔ 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انہوں نے 104 گیندوں پر 71 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور پاکستان کو فتح کے قریب لے آئے۔ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ٹیم کو کامیابی دلوا دیں گے، لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرتی رہیں اور بالآخر تنویر سنگھا کی گیند پر سٹمپ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے مطابق شاداب خان کے کردار میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔

شاداب نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک بولنگ آل راونڈر کے طور پر کیا تھا، لیکن اب وہ زیادہ تر بیٹنگ آل راونڈر کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ ہیں اور اسی لیے انہیں چھٹے یا ساتویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہیسن نے واضح کیا کہ موجودہ کمبی نیشن میں شاداب کو پانچویں بولنگ آپشن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔سیریز کے دوران سپن دوست وکٹوں کی تیاری بھی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ ہیسن کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف حالات میں ٹیم کو آزمانا چاہتا ہے کیونکہ 2027 کا ورلڈ کپ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں مختلف نوعیت کی پچز پر کھیلا جائے گا۔ ان کے مطابق شدید گرمی کے باعث تیز رفتار وکٹیں تیار کرنا آسان نہیں، اس لیے سپن کو مدد دینے والی پچز ہی زیادہ موزوں ثابت ہو رہی ہیں۔اب سیریز فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آخری ون ڈے میں نہ صرف پاکستان کو کامیابی درکار ہے بلکہ شاداب خان پر بھی نظریں مرکوز ہوں گی کہ آیا وہ اپنی کارکردگی سے ناقدین کے سوالات کا جواب دے پاتے ہیں یا نہیں۔