جاز ورلڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی نگرانی کے فروغ کے لیے جدید آئی او ٹی ویدر اسٹیشن کا افتتاح کر دیا

جاز ورلڈ نے 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے اپنے عزم کو مزید تقویت دیتے ہوئے انٹرنیٹ آف تھنگز سے لیس جدید موسمیاتی نگرانی کا اسٹیشن قائم کر دیا ہے۔عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پریہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):جاز ورلڈ نے 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے اپنے عزم کو مزید تقویت دیتے ہوئے انٹرنیٹ آف تھنگز سے لیس جدید موسمیاتی نگرانی کا اسٹیشن قائم کر دیا ہے۔عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پریہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔اس اقدام کے تحت ایک ہائپر لوکل موسمیاتی نگرانی کا پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا ہے جو درجہ حرارت، نمی، بارش، ہوا کی رفتار اور سمت، اور فضائی دباؤ سمیت مختلف ماحولیاتی اشاریوں کا ڈیٹا رئیل ٹائم میں مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ جاز ورلڈ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے ٹیکنالوجی، پائیداری اور جدت کو یکجا کر کے بہتر ماحولیاتی انتظام اور موسمیاتی تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب میں حکومت کے اعلیٰ حکام، بشمول وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی سیکریٹری عائشہ حمیرا چوہدری اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر نعیم نے شرکت کی۔ اس موقع پر موسمیاتی لچک اور تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہاموسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پذیری کا آغاز بہتر معلومات سے ہوتا ہے،جیسے جیسے موسمی حالات غیر متوقع ہوتے جا رہے ہیں، درست اور ہائپر لوکل ڈیٹا کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ بہتر مقامی ڈیٹا بہتر پیش گوئیوں میں مدد دیتا ہے، بہتر پیش گوئیاں بہتر تیاری کو ممکن بناتی ہیں اور بہتر تیاری زیادہ لچکدار کمیونٹیز کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

یہ موسمیاتی نگرانی کا اسٹیشن اس بات کی ایک سادہ مثال ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور ڈیٹا مل کر بہتر فیصلوں میں مدد دے سکتے ہیں۔آئی او ٹی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تجزیاتی نظام سے آراستہ یہ پلیٹ فارم رئیل ٹائم میں حاصل ہونے والے موسمیاتی مشاہدات کو قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کرے گا، جو عملی منصوبہ بندی، پائیداری کے انتظام اور ماحولیاتی نگرانی کے مختلف شعبوں میں معاون ثابت ہوں گی۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات، بشمول سیلاب، شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں، سے بڑھتے ہوئے پیمانے پر متاثر ہو رہا ہے۔

ایسے حالات میں ہائپر لوکل موسمیاتی معلومات پیش گوئیوں کو بہتر بنانے، بروقت اقدامات کی منصوبہ بندی اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ماحولیاتی نگرانی اور آگاہی میں اپنے کردار کے تحت جاز ورلڈ اس اسٹیشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے ساتھ بھی شیئر کرے گا، تاکہ ملک بھر میں موسمیاتی مشاہدات اور پیش گوئی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

مستقبل میں اس پلیٹ فارم میں فضائی معیار اور یو وی شعاعوں کی نگرانی جیسی اضافی صلاحیتیں بھی شامل کی جائیں گی، جس سے ماحول سے متعلق مزید تفصیلی معلومات حاصل ہوں گی اور ادارہ جاتی فلاح و بہبود اور پائیداری کے اہداف کو تقویت ملے گی۔یہ اقدام اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، آئی او ٹی اور مصنوعی ذہانت کو روایتی رابطہ کاری سے آگے بڑھ کر حقیقی مسائل کے حل، ڈیٹا پر مبنی جدت، اور موسمیاتی مطابقت پذیری کے عملی اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔1

 

مزید خبریں