پاکستان ، آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا فیصلہ کن اور آخری مقابلہ آج قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر مشتمل سیریز کا فیصلہ کن اور آخری مقابلہ آج جمعرات کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں دونوں ٹیمیں سیریز میں 1-1 کی برابری کے بعد میدان میں اتریں گی۔

لاہور۔4جون (اے پی پی):پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر مشتمل سیریز کا فیصلہ کن اور آخری مقابلہ آج جمعرات کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں دونوں ٹیمیں سیریز میں 1-1 کی برابری کے بعد میدان میں اتریں گی۔ کرکٹ شائقین اس اہم معرکے میچ کا نتیجہ نہ صرف سیریز کے فاتح کا تعین کرے گا بلکہ دونوں ٹیموں کی حالیہ فارم اور کارکردگی کا بھی حقیقی امتحان ثابت ہوگا۔ آسٹریلوی ٹیم کے لیے یہ مقابلہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ 1998 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی ون ڈے سیریز جیتنے کے قریب پہنچی ہے، مہمان ٹیم کے پاس ایک تاریخی کامیابی حاصل کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا ہوم ریکارڈ انتہائی مضبوط رہا ہے۔ قومی ٹیم نے2015 کے بعد اپنے ملک میں کھیلی جانے والی باہمی ون ڈے سیریز میں صرف ایک مرتبہ شکست کا سامنا کیا ہے، جس کے باعث گرین شرٹس اپنے شاندار ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

گزشتہ دو ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان نے آسٹریلیا کو 2-1 سے شکست دی تھی۔ بیٹنگ کے شعبے میں پاکستان کو اپنے سابق کپتان بابر اعظم سے ایک بار پھر بڑی اننگز کی توقعات ہیں۔ بابر نے حالیہ7 میچوں میں 288 رنز سکور کیے ہیں، جن میں ان کی اوسط 48 اور سٹرائیک ریٹ 76.39 رہا۔ اگرچہ وہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم آسٹریلوی فاسٹ بولر نیتھن ایلس ان کے لیے مسلسل خطرہ ثابت ہوئے ہیں۔ ایلس نے صرف پانچ ون ڈے مقابلوں میں بابر اعظم کو تین مرتبہ آئوٹ کیا ہے، جس کی وجہ سے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوگا۔آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن بھی عمدہ فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ میٹ رینشا نے پانچ میچوں میں211 رنز بنا کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے، جبکہ ان کی اوسط 52.75 اور سٹرائیک ریٹ96.78 رہا ہے، آل رانڈر کیمرون گرین نے 209 رنز بنا کر آسٹریلوی بیٹنگ کو استحکام فراہم کیا ہے۔ ان کی اوسط52.25 اور سٹرائیک ریٹ98.58 رہا، جو ان کی جارحانہ اندازِ بیٹنگ کی عکاسی کرتا ہے۔

بولنگ میں پاکستان کے حارث رئوف بہترین فارم میں ہیں۔ انہوں نے 8 میچوں میں18 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کی اکانومی ریٹ 5.40 رہی ہے۔ نوجوان سپنر ابرار احمد نے بھی متاثر کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 6 میچوں میں 12 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کی اکانومی صرف 4.15 رہی ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے تجربہ کار لیگ سپنر ایڈم زیمپا 8 میچوں میں14 وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے ہیں، جبکہ نیتھن ایلس نے 9 میچوں میں12 شکار کیے ہیں۔ پاکستانی سکواڈ میں بابر اعظم، سلمان آغا، حارث رئوف، نسیم شاہ، شاداب خان، ابرار احمد اور دیگر اہم کھلاڑی شامل ہیں، جبکہ آسٹریلوی ٹیم کی قیادت جوش انگلس کر رہے ہیں۔ مہمان ٹیم میں الیکس کیری، کیمرون گرین، میٹ رینشا، مارنس لبوشین، ایڈم زیمپا اور نیتھن ایلس جیسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، جو کسی بھی وقت میچ کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قذافی سٹیڈیم کی پچ روایتی طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، جہاں بلے بازوں کو اچھا بائونس اور رنز بنانے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ تاہم درمیانی اوورز میں سپنرز بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے باعث ٹیموں کی حکمت عملی میں سپن بولنگ کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ موسم صاف اور گرم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ بارش کا کوئی امکان نہیں، اس لیے مکمل اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان یہ میچ انتہائی سخت اور اعصاب شکن ثابت ہوسکتا ہے، جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی سیریز کے فاتح کا فیصلہ بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مقابلہ نہ صرف سیریز کا فیصلہ کرے گا بلکہ دونوں ٹیموں کی صلاحیتوں، دبائو برداشت کرنے کی قوت اور بڑے مواقع پر کارکردگی کا بھی مکمل امتحان ہوگا۔

مزید خبریں