پاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے کرکٹ میچ میں 4 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز جیت لی، گرین شرٹس نے عالمی چیمپئنزکے خلاف مسلسل تیسری ون ڈے سیریز جیتی

تماشائیوں سے کچھا کچھ بھرے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ میچ میں پاکستان ٹیم نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔

لاہور۔5جون (اے پی پی):تماشائیوں سے کچھا کچھ بھرے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ میچ میں پاکستان ٹیم نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس تاریخی فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر کے عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تیسری ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔اگرچہ اس کامیابی کی بنیاد پاکستانی باؤلرز نے رکھی تھی، لیکن میچ کا سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب تجربہ کار آل راؤنڈر شاداب خان اور ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز عبد الصمد نے شدید دباؤ کے باوجود کمالِ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔158 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں ایک وقت پر پاکستان مضبوط پوزیشن میں تھا، تاہم مڈل آرڈر کی اچانک گرتی ہوئی وکٹوں کے باعث میزبان ٹیم 112 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر مشکلات کا شکار ہو گئی۔ آسٹریلیا میچ میں واپسی کے لیے پرامید تھا، لیکن شاداب اور عبد الصمد نے حواس باختہ ہونے کے بجائے انتہائی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ دونوں بلے بازوں نے سٹرائیک روٹیٹ کی اور خراب گیندوں پر چوکے لگا کر آسٹریلوی باؤلرز کا دباؤ کم کیا۔ان دونوں کے درمیان قائم ہونے والی 49 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت نے نہ صرف پاکستان کو بحران سے نکالا بلکہ سیریز میں فتح بھی یقینی بنائی۔ شاداب خان 42 گیندوں پر 29 رنز جبکہ عبد الصمد 30 گیندوں پر 18 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں نے ٹیم کی ضرورت کے وقت پختگی اور ذمہ داری کا بہترین ثبوت دیا۔اس سے قبل پاکستان کا آغاز بھی اچھا نہ تھا اور صاحبزادہ فرحان جلد آؤٹ ہو گئے۔ معاذ صداقت نے 27 رنز کی مثبت اننگز کھیلی جبکہ سابق کپتان بابر اعظم نے 40 رنز کی صابرانہ اننگز کے ساتھ ٹیم کو سہارا دیا۔ تاہم، وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں نے پاکستان کو مکمل کنٹرول حاصل کرنے نہ دیا، جس کے بعد شاداب اور عبد الصمد نے میچ وننگ پارٹنرشپ قائم کی۔ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنے والی آسٹریلوی ٹیم شروع سے ہی مشکلات کا شکار رہی۔ شاہین شاہ آفریدی نے میچ کی دوسری ہی گیند پر میتھیو شارٹ کو صفر پر آؤٹ کر کے مہمان ٹیم کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے 71 گیندوں پر 65 رنز بنا کر بھرپور مزاحمت کی اور مارنس لبوشین اور ایلکس کیری کے ساتھ مفید شراکت داریاں قائم کیں، لیکن پاکستانی باؤلرز نے دباؤ برقرار رکھا۔ حارث رؤف نے اہم موڑ پر ایلکس کیری کو آؤٹ کیا، جس کے بعد شاہین نے اپنے دوسرے سپیل میں جوش انگلس اور کیمرون گرین دونوں کو پویلین بھیج دیا۔اس کے بعد لیگ سپنر ابرار احمد نے جاندار باؤلنگ کرتے ہوئے میٹ رینشا اور کوپر کونولی کو یکے بعد دیگرے آؤٹ کر کے میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کر دی، جبکہ شاداب خان نے آخری لمحات میں 2 وکٹیں حاصل کر کے اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کو مکمل کیا۔ آسٹریلیا کی پوری ٹیم 42 اوورز میں 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جو کہ فاسٹ اور سپن باؤلرز کے لیے سازگار اس پچ پر ایک کم سکور تھا۔پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 30 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ابرار احمد اور شاداب خان نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حارث رؤف کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔ فیلڈرز نے بھی باؤلرز کا بھرپور ساتھ دیا، خاص طور پر مارنس لبوشین کا شاندار رن آؤٹ میچ کا اہم لمحہ رہا۔اس شاندار جیت کے ساتھ ہی قذافی سٹیڈیم لاہور میں جشن کا سماں بندھ گیا۔ پاکستان کی یہ فتح محض ایک میچ کی جیت نہیں، بلکہ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کے خلاف گرین شرٹس کی ذہنی پختگی، دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت اور بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔