آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کپتان جوش انگلس نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شکست کی ذمہ داری ٹیم کی بیٹنگ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس وکٹ پر مطلوبہ سکور بنانے میں ناکام رہی
آسٹریلین کپتان نے میچ میں شکست کی ذمہ داری ٹیم کی بیٹنگ پر عائد کردی
لاہور۔5جون (اے پی پی):آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کپتان جوش انگلس نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں شکست کی ذمہ داری ٹیم کی بیٹنگ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس وکٹ پر مطلوبہ سکور بنانے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پچ پر200 سے زائد رنز ایک اچھا مجموعہ ثابت ہو سکتا تھا، تاہم آسٹریلوی ٹیم تقریبا30 سے40 رنز کم بنا سکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ مزید10 سے15 اوورز وکٹ پر موجود رہتے تو ٹیم کہیں بہتر پوزیشن میں ہوتی۔ انگلس نے بیٹنگ کے دوران ہونے والے رن آئوٹس کو بھی میچ کا اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ ایسی مشکل وکٹوں پر رن آئوٹ کسی بھی ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور اضافی دبائو پیدا کرتے ہیں۔ مارنس لبوشین کے رن آئوٹ کے بارے میں سوال پر انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ واضح طور پر کمیونیکیشن کی غلطی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ رن آئوٹ کرکٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھار ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں۔ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انگلس نے کہا کہ ماضی کے تجربات اور وکٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم کو محسوس ہوا تھا کہ بعد میں بیٹنگ کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے، اسی لیے پہلے بیٹنگ کا انتخاب کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر آسٹریلیا220 سے230 رنز تک پہنچ جاتی تو یہ اس وکٹ پر ایک مضبوط سکور ہوتا، اپنی بیٹنگ حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاور پلے میں تیزی سے رنز بنانے کی کوئی غیر معمولی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ نئی گیند کے ساتھ بیٹنگ بھی آسان نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گیند سخت ہونے کے دوران سپنرز کو مدد مل رہی تھی جس کی وجہ سے بلے بازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کے حوالے سے انگلس نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات آسٹریلوی کھلاڑیوں کے لیے کافی مختلف اور چیلنجنگ ہوتے ہیں، اس لیے نوجوانوں کے لیے یہ سیریز سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کا بہترین موقع ثابت ہوئی۔کیمرون گرین اور مارنس لبوشین کی فارم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں عالمی معیار کے کھلاڑی ہیں اور مشکل کنڈیشنز کے ساتھ مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے بعض اوقات رنز بنانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم انہیں پورا یقین ہے کہ دونوں کھلاڑی جلد اپنی بہترین فارم میں واپس آئیں گے اور آسٹریلیا کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔









