وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بحیرۂ عرب میں زیرِ آب غیر معمولی حدت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ساحلی آبادیوں، ماہی گیری کے شعبے اور بحری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری موسمیاتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے
وفاقی وزیر برائے بحری امور کا بحیرۂ عرب میں زیرِ آب غیر معمولی حدت پر تشویش کا اظہار ، فوری موسمیاتی اقدامات کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بحیرۂ عرب میں زیرِ آب غیر معمولی حدت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ساحلی آبادیوں، ماہی گیری کے شعبے اور بحری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری موسمیاتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرت موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے بے شمار پائیدار حل فراہم کرتی ہے جو سمندروں کی گہرائیوں سے پہاڑوں کی بلندیوں تک موجود ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور ماحولیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا۔جنید انوار چوہدری نے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی بحیرۂ عرب میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت خطے کے 30 فیصد سے زائد حصے میں معمول سے بہت زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سائنسدان اس صورتحال کو ایک غیر معمولی سمندری ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں جو پاکستان کے ساحلی علاقوں میں موسمیاتی خطرات میں اضافہ اور آنے والے مون سون کے رویّے میں تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرم سمندری پانی طوفانوں کی تشکیل اور شدت میں اضافے کا ایک اہم عنصر ہے جبکہ موجودہ سمندری ہیٹ ویو شمالی بحیرۂ عرب میں استوائی طوفانوں کی سرگرمی بڑھا سکتی ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ طوفانوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ بندرگاہوں، ماہی گیر بیڑوں اور ساحلی انفراسٹرکچر پر مزید دباؤ ڈالے گا جس کے پیشِ نظر سرکاری اداروں اور صنعتوں کو اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی ریکارڈز 1980 کی دہائی سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون کی نمی کے مغرب کی جانب منتقل ہونے کے رجحان کے باعث اگست کے وسط سے ستمبر کے وسط تک کراچی اور سندھ سمیت جنوبی پاکستان میں معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ہیٹ ویوز، طویل خشک سالی اور تباہ کن سیلاب اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی موسمیاتی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات دنیا بھر کی آبادیوں کی بڑھتی کمزوری کو نمایاں اور فوری اجتماعی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحیرۂ عرب کے غیر معمولی گرم ہونے سے ساحلی علاقوں کی جانب نمی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے جس کے نتیجے میں شدید بارشوں کے امکانات بڑھ جائیں گے ایسی صورتحال شہری نکاسیٔ آب کے نظام کو متاثر اور سیلابی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ، ساحلی کٹاؤ اور کھارے پانی کی دراندازی زرعی زمینوں اور میٹھے پانی کے ذخائر کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مرجانی چٹانوں (کورلز) کی شدید تباہی اور مچھلیوں کی آبادیوں میں تبدیلی کے خدشات کا بھی اظہار کیا جو ماہی گیروں کے روزگار اور ملکی بلیو اکانومی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے ریکارڈ اخراج اور زمین کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کے باعث دنیا بھر میں سمندری ہیٹ ویوز کی تعداد، شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق سمندر فضا کی اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کر رہے ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں سمندری ماحولیاتی نظام اور ان پر انحصار کرنے والی کمیونٹیز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ جنید انوار چوہدری نے موسمیاتی موافقت، آفات کے خطرات میں کمی اور پائیدار بحری حکمرانی کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قومی اور صوبائی اداروں سے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سمندری ہیٹ ویوز، طوفانوں اور شدید بارشوں کے لیے ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے، ماہی گیر برادریوں کے لیے معاونت اور متبادل روزگار کے مواقع بڑھانے، مینگرووز کی بحالی، ساحلی تحفظ، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبے کی تیاریوں میں بہتری اور سائنسی تعاون کے ذریعے سمندری نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کو ترجیحی اقدامات قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، صوبائی حکومتوں، ماہی گیر تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے نجی شعبے، پورٹ اتھارٹیز اور سول سوسائٹی سے بھی قومی سطح پر مربوط ردِعمل کا حصہ بننے کی اپیل کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نہایت اہم مرحلے پر کھڑا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ سائنسی بنیاد پر بروقت فیصلے کیے جائیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ساحلی ممالک کی معاونت کے لیے عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی مالی معاونت بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مون سون سیزن سے قبل غیر معمولی چوکسی اختیار کرنے اور ساحلی علاقوں کی تیاری کے حوالے سے قومی آگاہی مہم تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں، غذائی تحفظ اور پاکستان کے سمندروں کی ماحولیاتی و معاشی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے








