جرائم پیشہ نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کر رہے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بشکیک میں اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ و پبلک سکیورٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‎ہمارے خطے کو سنگین اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ‎دہشت گردی، منظم جرائم ،منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

بشکیک۔5جون (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ و پبلک سکیورٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‎ہمارے خطے کو سنگین اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ‎دہشت گردی، منظم جرائم ،منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ‎ جرائم پیشہ نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ‎بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں کی جدید خطوط پر ہم آہنگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‎پاکستان شنگھائی سپرٹ کے اصولوں ،باہمی اعتماد، مساوی شراکت اور خودمختاری پر مکمل کاربند ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ‎پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ‎قومی ایکشن پلان کے تحت انٹیلیجنس کوآرڈینیشن، بارڈر مینجمنٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ‎ایس سی او آر اے ٹی ایس کے تحت خفیہ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ خطرات کے تجزیے میں تعاون اور آن لائن انتہاپسندی کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ‎اس ضمن میں پاکستان ورکشاپس اور ماہرین کے تبادلے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ سائبر انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل فرانزکس میں علاقائی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے ۔‎منشیات کی سمگلنگ دہشت گردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔‎ منشیات، آن لائن نیٹ ورکس اور کرپٹو ٹرانزیکشنز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ‎پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس ایس سی او سطح پر انسدادِ منشیات اقدامات میں مکمل متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ‎بارڈر سکیورٹی علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جعلی دستاویزات، واچ لسٹ ہم آہنگی اور انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ نظام میں اصلاحات کی ہیں اور پاکستان کا مضبوط اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ‎دہشت گرد مالی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مضبوط علاقائی تعاون ناگزیر ہے، ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں اس لیے ہماری کاوشیں بھی اجتماعی اور مربوط ہونی چاہئیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ پرامن اور محفوظ ایس سی او خطہ ہماری مشترکہ کوششوں کا ہدف ہے۔ ہم 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایس سی او سمٹ میں شرکاکے استقبال کے منتظر ہیں ۔

مزید خبریں