وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکس نیٹ میں توسیع، چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم اور ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا عمل جاری ہے، پاکستان معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور قومی آمدنی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت …
معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا عمل جاری ہے، پاکستان معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے ،سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکس نیٹ میں توسیع، چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم اور ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا عمل جاری ہے، پاکستان معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور قومی آمدنی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاجروں اور انجمن تاجران کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک نئی سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔
جمعہ کو وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک اس وقت معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس سفر میں قومی آمدنی کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے باوجود معاشی استحکام کی بدولت حکومت کے پاس بفرز موجود رہے جس کے باعث سیلاب میں ریسکیو وریلیف اور درآمدی بلز خصوصاً تیل کے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کیے گئے اور کسی سے مالی مدد نہیں لینی پڑی۔ انہوں نے اسے خود انحصاری کی اہم مثال قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس نظام کو منصفانہ، متوازن اورپائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے،وزیراعظم اس اصلاحاتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ ٹیکس نظام میں مزید بہتری اور وسعت کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے ٹیکس نظام سے متعلق اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس شرح بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت معاشرے کے مختلف طبقات پر ٹیکس کا بوجھ غیرمتوازن ہےجسے درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جائے اور وہ طبقات جو اب تک مناسب حصہ نہیں ڈال رہے تھے انہیں بھی نظام میں لایا جائے۔چھوٹے دکانداروں کے تقریباً 30 سے 40 لاکھ افراد پر مشتمل طبقے کو بھی اس نظام میں سہولت اور مشاورت کے ساتھ شامل کیا جا رہا ہے۔پ
ریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ چھوٹےدکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم مکمل مشاورت کے بعد متعارف کرائی جا رہی ہےجس میں تاجروں کی تنظیموں اور انجمن تاجران کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ سکیم ان دکانداروں کے لیے ہوگی جن کا سالانہ ٹرن 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ سکیم کے تحت دکاندار اپنی فروخت ظاہر کریں گے اور اس پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو سادہ، قابلِ عمل اور وسیع بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے لیے ایک سادہ فارم تیار کیا گیا ہے جو مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگااور دکاندار اپنی فروخت کی تفصیلات اس کےذریعے جمع کرا سکیں گے،سکیم میں شامل ہونے کے بعد ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سکیم مکمل طور پر اختیاری ہوگی یعنی دکاندار اپنی مرضی سے اس میں شامل ہو سکیں گے یا روایتی نظام میں رہ سکتے ہیں۔شامل ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی پلیٹ جاری کی جائے گی جس پر دکان کا نام، این ٹی این نمبر اور ’’فرض شناس ٹیکس گزار‘‘درج ہوگا جبکہ اس پر کیو آر کوڈ بھی شامل ہوگا۔
کیو آر کوڈ کے ذریعے دکان کی تصدیق ممکن ہوگی اور انسپکشن کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت شامل دکانداروں کو عمومی طور پر آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگاجبکہ صرف سنگین نوعیت کے معاملات میں تاجر تنظیموں کی مشاورت سے کارروائی کی جائے گی، پی او ایس سسٹم کی شرط سے بھی استثنیٰ دیا جائے گا اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔
یہ سہولت موجودہ فائلرز کے لیے بھی دستیاب ہوگی بشرطیکہ ان کا سالانہ ٹرن اوور گزشتہ تین سال میں کسی بھی ایک سال میں 20 کروڑ روپے سے زائد نہ ہو اور وہ کم از کم پچھلے سال کے برابر ٹیکس ادا کر رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو دکاندار نہ اس سکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی ٹیکس فائل کریں گے ان پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے ماہانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔








