سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر فوجداری مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے عمل یا کوتاہی کے باعث نہ ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے ضمنی حکم (پرووائزو) کے تحت بعد از گرفتاری ضمانت ملزم کا قانونی حق بن جاتی ہے، جسے صرف الزام کی سنگینی کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرائل میں تاخیر کی ذمہ داری ملزم پر نہ ہو تو بعد از گرفتاری ضمانت قانونی حق ہے، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر فوجداری مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے عمل یا کوتاہی کے باعث نہ ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے ضمنی حکم (پرووائزو) کے تحت بعد از گرفتاری ضمانت ملزم کا قانونی حق بن جاتی ہے، جسے صرف الزام کی سنگینی کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم محمد اقبال کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ملزم کے خلاف ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل لاہور میں انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم اپنے بیٹے محمد حماس علی کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کا وصول کنندہ تھا، جس پر پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنے میں معاونت کا الزام ہے۔دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل 2 فروری 2025 سے جیل میں ہے، چالان جمع ہو چکا ہے اور فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے تاہم ایک بھی استغاثہ کا گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہیں ہوئی، اس لیے وہ قانونی طور پر ضمانت کا حق دار ہے۔سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاخیر کی بڑی وجوہات استغاثہ کے گواہوں کی عدم پیشی، جج کی رخصت یا تربیتی مصروفیات اور پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی تھیں۔
عدالت کے مطابق ملزم کی جانب سے صرف ایک مرتبہ وکالت نامہ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی، جسے ٹرائل میں رکاوٹ ڈالنے کی منظم کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ شریک ملزم کے مفرور ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تاخیر کو اس ملزم کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا جو ضمانت کا خواہاں ہو، جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ وہ اس تاخیر میں شریک تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ جب قانون میں مقررہ مدت کے اندر ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم سے منسوب نہ ہو تو ضمانت ’’حق‘‘ کے طور پر دی جاتی ہے، نہ کہ عدالتی رعایت کے طور پر۔ محض الزامات کی سنگینی اس قانونی حق کو ختم نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور محمد اقبال کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں اور اتنی ہی مالیت کے دو ضامنوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم میں کیے گئے مشاہدات ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقدمے کے حتمی ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔








