بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث نایاب ازاخيلی بھینسیں اور کسان خطرات سے دوچار ہیں، کسان بھارتی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پانی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شانگہ سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ کسان عمر علی بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ عمر علی صبح سویرے وادی بشام میں بھارت …
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، نایاب ازاخيلی بھینسیں معدومی کے خطرے سے دوچار
پشاور۔ 05 جون (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث نایاب ازاخيلی بھینسیں اور کسان خطرات سے دوچار ہیں، کسان بھارتی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پانی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شانگہ سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ کسان عمر علی بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ عمر علی صبح سویرے وادی بشام میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث اپنے مویشیوں کے ریوڑ کےلیے پانی کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان محنت و مشقت کا آغاز کرتا ہے۔موسم گرما کی تپش سے خود کو بچانے کےلیے سر پر گیلا تولیہ لپیٹے وہ اپنی ازاخيلی بھینسوں، بکریوں اور بھیڑوں کو دریائے سندھ کے قریب چراگاہوں کی طرف لے جاتا ہے اور وہاں درختوں کے نیچے پورا دن گزارتا ہے۔
عمر علی کے لیے یہ سفر محض ایک روزمرہ کا معمول نہیں بلکہ اس روزی روٹی کو بچانے کی جدوجہد ہے جو طویل عرصے سے اس کے خاندان کی کفالت کر رہی ہے۔ وادی سے گزرتے ہوئے دریائے سندھ کو دیکھتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ازاخيلی بھینسیں میری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ان کا دودھ میرے بچوں کی تعلیم اور صحت کی خدمات کے اخراجات پورے کرنے میں میری مدد کرتا ہے۔شانگلہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں مویشی پالنے والے سینکڑوں مالکان کی طرح عمر علی کا انحصار بھی دریائے سندھ کے تالابوں اور اس کے آس پاس کی چراگاہوں پر بہت زیادہ ہے۔ یہ دریا جانوروں کےلیے پینے کا پانی فراہم کرتا ہے اور ان قدرتی چراگاہوں کو برقرار رکھتا ہے جو خیبر پختونخوا کی شمالی پٹی میں نسلوں سے دیہی آبادیوں کا سہارا ہے۔ عمر علی نے تالاب سے باڑے کی طرف ازاخيلی بھینسوں کو منتقل کرتے ہوئے اے پی پی کو بتایا کہ دریائے سندھ ہماری لائف لائن ہے۔ اگر دریا بہتا رہے گا، تو ہماری زندگی بھی امیدوں اور خوشحالی کے ساتھ چلتی رہے گی۔
ازاخيلی بھینس جو کہ ایک نایاب مقامی نسل ہے اور بنیادی طور پر ملاکنڈ، سوات اور شانگلہ کے اضلاع میں پائی جاتی ہے، منفرد طور پر ناہموار پہاڑی خطوں کے مطابق خود کو ڈھال چکی ہے۔بھینسوں کی دیگر کئی نسلوں کے مقابلے میں سائز میں چھوٹی اور اپنی مخصوص بھوری رنگت سے پہچانی جانے والی یہ بھینس دلدلی ماحول کے بجائے قدرتی چراگاہوں اور دریا کے پانی پر پروان چڑھتی ہے۔ عمر علی جیسے خاندانوں کےلیے یہ نسل مویشیوں سے بڑھ کر ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، آمدنی اور ثقافتی ورثے کا ایک ذریعہ ہے جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث پانی کی دستیابی کے مستقبل پر خدشات نے ان آبادیوں اور مویشی پالنے والوں پر سائے ڈالنا شروع کر دیے ہیں جن کا انحصار دریا کے نظام پر ہے۔
مویشیوں کے ماہرین کے مطابق پانی کے بہاؤ میں کسی بھی طویل مدتی خلل سے چراگاہوں، تالابوں اور جھیلوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور ان پر انحصار کرنے والے جانوروں کی بقا کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔لائیوسٹاک خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عالمزیب خان نے خبردار کیا کہ پانی کی دستیابی میں کمی کے مویشیوں کی آبادی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جس میں معدومی کے خطرے سے دوچار ازاخيلی بھینس بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی دریائی پٹی وسیع چراگاہوں اور تالابوں پر مشتمل ہے جہاں آبادیاں دہائیوں سے قدرتی چارے اور پانی پر انحصار کر رہی ہیں۔ اگر پانی کی قلت برقرار رہی تو ہزاروں جانوروں کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ اس طرح کے چیلنجز خیبر پختونخوا میں پہلے ہی معاشی دباؤ کا سامنا کرنے والے دیہی گھرانوں کو براہ راست متاثر کریں گے۔ دودھ کی پیداوار میں کمی کسانوں کی آمدنی کو محدود کر سکتی ہے اور ہزاروں خاندانوں اور بچوں کےلیے غذائیت کے ایک اہم ذریعہ کو کم کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ازاخيلی بھینسیں اپنی زیادہ دودھ دینے کی صلاحیت کی وجہ سے قیمتی ہیں۔ پہاڑی ماحول میں ڈھلنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں شمالی پاکستان بھر کی آبادیوں کےلیے ایک اہم اثاثہ بنا دیا ہے۔ ہر صبح عمر علی اپنے جانوروں کو دریا کے کناروں پر چرتے ہوئے دیکھتا ہے، اس بات سے باخبر کہ ان کی بھلائی دریا کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔بشام، مارتونگ اور چکیسر جیسے علاقوں میں دریا سے منسلک تالاب اور ندیاں شمالی خیبر پختونخوا میں زراعت، باغات اور مویشیوں کےلیے ضروری پانی فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہتا ہے یہ جانور ہمارے خاندانوں کا سہارا ہیں۔ پانی کے بغیر سب کچھ مشکل ہو جاتا ہے۔ پانی کے ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو ایک ایسے اہم فریم ورک کے طور پر بیان کیا جس نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے سندھ طاس میں پانی کی تقسیم کے انتظامات کو کنٹرول کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کا تحفظ پورے خطے میں زراعت، غذائی پیداوار اور معاشی استحکام سے گہرا جڑا ہوا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان کہتے ہیں کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتائج بالآخر عام لوگوں کو بھگتنا پڑیں گے۔ اس کے علاوہ یہ جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد جمیل خان کے مطابق پانی کی تقسیم کے قابلِ پیش گوئی انتظامات ان آبادیوں کےلیے ضروری ہیں جن کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشیوں پر ہے۔ ماہرین نے عالمی برادری اور ورلڈ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور فاشسٹ مودی حکومت کو سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے پر مجبور کریں کیونکہ بھارت بین الاقوامی ثالثی عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد تمام بنیادیں کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے بین الاقوامی قوانین اور ورلڈ بینک کی ضمانت کے خلاف ورزی کی اور اب 1960 میں صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے دستخط کردہ اس تاریخی معاہدے کی بحالی عالمی برادری اور ورلڈ بینک کےلیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے آبادیوں کےلیے یہ بحثیں محض سفارتی یا قانونی مسائل نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہیں۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں روزمرہ کی زندگی، لوگوں کی آمدنی اور مستقبل کے امکانات کو متاثر کریں گی۔
جیسے ہی شانگلہ کے پہاڑوں پر دوپہر کا سورج تیز ہوتا ہے، عمر علی اپنے مویشیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور گھر واپسی کے سفر کی تیاری کرتا ہے۔ دریا اس کے ساتھ بہتا رہتا ہے جو فطرت اور بقا کے درمیان نازک توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فی الحال ازاخيلی بھینسیں دریا کے کناروں پر امن کے ساتھ چر رہی ہیں۔ لیکن ان پر انحصار کرنے والے بہت سے خاندانوں کےلیے پانی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ایک بڑھتی ہوئی تشویش بنی ہوئی ہے۔









