طاہر اشرفی کا علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو خراجِ تحسین، محرم الحرام میں اتحاد و یکجہتی کی اپیل

طاہر اشرفی کا علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو خراجِ تحسین، محرم الحرام میں اتحاد و یکجہتی کی اپیل

لاہور۔19جون (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے محرم الحرام کے دوران امن، رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی امن کے قیام میں پاکستان کی کامیاب سفارتی کاوشوں پر پوری قوم کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملک بھر میں یومِ تشکر منایا جا رہا ہے تاکہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جا سکے، جس نے پاکستان کی قیادت کو خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر قومی اداروں کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر امن کے فروغ میں ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار کے طور پر ابھرا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان، مملکت سعودی عرب اور دیگر برادر اسلامی ممالک کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب مثبت پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کی قیادت، بالخصوص ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، نیز ایران اور امریکہ کی قیادت کو بھی امن کے فروغ کے لیے سفارتی عمل کی حمایت پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم درحقیقت پوری انسانیت کی خدمت ہے۔محرم الحرام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتبِ فکر کے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ صبر، تحمل، برداشت اور باہمی احترام کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا، "اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں” امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کا بنیادی اصول ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ پوری امتِ مسلمہ کے عظیم رہنما اور مشترکہ سرمایہ ہیں، لہٰذا ان کے نام پر اختلافات اور انتشار پیدا کرنے والے کسی صورت امت کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیوں کے بعد اب پاکستان کو داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور معاشی ترقی پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، اور یہ مقاصد صرف اتحاد، اعتدال، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ افواہوں، اشتعال انگیز ویڈیوز، آڈیوز اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ ایسے مواد کو آگے پھیلانے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کسی کو بھی دوسرے مسلمان کی تکفیر، گالم گلوچ یا کسی بھی مکتبِ فکر کی مقدس شخصیات اور عقائد کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے علماء کرام، خطباء، ذاکرین اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ضابطۂ اخلاق اور اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء کے متفقہ فیصلوں پر عمل درآمد ہی ملک میں پائیدار امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی استحکام کی ضمانت ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر حافظ طاہر محمود اشرفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کو امن، استحکام اور ترقی سے نوازے، فلسطینی عوام کو آزادی، امن اور انصاف عطا فرمائے، جبکہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت نصیب کرے۔

مزید خبریں