غلط ریکارڈ شدہ گواہیوں کی تصحیح کا حکم، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ہفتے کی مہلت دے دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نایاب عمرانی کی بہن صنم عمرانی قتل کیس میں گواہیوں کی غلط ریکارڈنگ کے معاملے پر ٹرائل کورٹ کو گواہیوں کا ریکارڈ درست کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد دو ہفتوں کے اندر ضروری تصحیح کی جائے

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے نایاب عمرانی کی بہن صنم عمرانی قتل کیس میں گواہیوں کی غلط ریکارڈنگ کے معاملے پر ٹرائل کورٹ کو گواہیوں کا ریکارڈ درست کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد دو ہفتوں کے اندر ضروری تصحیح کی جائے۔منگل کو جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے گواہیوں کی غلط ریکارڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ "کیا گواہی کی ریکارڈنگ مذاق بن چکی ہے؟ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے اس حوالے سے میمورنڈم جاری کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں ہائی کورٹ کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں۔

اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ گواہی کا درست ریکارڈ کرنا عدالتی معاملہ ہے اور اگر کوئی غلطی عدالت کے نوٹس میں آجائے تو اس کی تصحیح کی جا سکتی ہے۔درخواست گزار نایاب عمرانی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں وقوعہ کی تاریخ تک غلط درج کر دی گئی ہے جبکہ جرح کا مکمل اور درست ریکارڈ بھی شامل نہیں کیا گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت تاریخ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم وکیل صرف گواہی میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کریں۔سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر متعلقہ عدالت خود ہی ریکارڈ کی تصحیح کر لیتی تو معاملہ سپریم کورٹ تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل اختیارات حاصل ہیں۔

عدالت نے گواہیوں کی غلط ریکارڈنگ پر سخت مشاہدات بھی دیے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جج صاحب کی نیت تو صرف اللہ جانتا ہے، ہمیں اس طرف نہ لے کر جائیں کہ بے ایمانی کا لکھنا پڑ جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہائی کورٹ کو معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال عدالت صرف مقدمے میں گواہیوں کے ریکارڈ کی درستگی کا حکم دے رہی ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ صنم عمرانی قتل کیس میں گواہیوں کے ریکارڈ میں موجود غلطیوں کی تصحیح دو ہفتوں کے اندر مکمل کی جائے۔