وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے سمندری آلودگی کے خاتمے اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور اور گورنر سندھ کی ملاقات، سمندری آلودگی کے خاتمے پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور
نے سمندری آلودگی کے خاتمے اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں وزیر بحری امور کے چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ماحولیاتی نظم و نسق اور بحری پائیداری کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ کراچی کے آئندہ دورے کے دوران میرین پولیوشن کنٹرول بورڈ کا اجلاس طلب کریں گے، جس میں جاری اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور ساحلی آلودگی و ماحولیاتی انحطاط سے متعلق انہیں بریفنگ دیں گے۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچرے کے مؤثر انتظام، سمندری وسائل کے تحفظ اور پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ساحلی علاقوں کی ماحولیاتی و معاشی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ صحت مند سمندر موسمیاتی نظام کے توازن، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ساحلی آبادیوں کے روزگار کے لیے انتہائی اہم ہیں، جن میں مینگرووز اور ماہی گیری کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے بندرگاہی پانیوں اور اطراف میں معمول کے مطابق صفائی آپریشن جاری ہیں، جو ماحولیاتی انتظامی اقدامات کا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 19 سے 23 ملین ٹن پلاسٹک کچرا آبی ماحول میں شامل ہو جاتا ہے، جو سمندری آلودگی کے سنگین عالمی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ برائے ترقی (ورلڈ بینک) سمیت مختلف مطالعات کے مطابق سمندری کچرے میں پلاسٹک کا حصہ کئی علاقوں میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ یہ تناسب خطے اور طریقہ کار کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری کچرا ماحولیاتی نظام، ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے کچرے کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانے اور آلودگی کو منبع پر کم کرنے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے سرکلر اکانومی کی طرف منتقلی کے معاشی امکانات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بہتر ری سائیکلنگ اور وسائل کی بحالی نہ صرف ماحول پر دباؤ کم کر سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنا کر ویسٹ مینجمنٹ، سمندری وسائل کے تحفظ اور پائیدار بحری ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔








