خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی خصوصی دلچسپی اور مؤثر کاوشوں کے نتیجے میں صوبے کے سرکاری طبی اداروں میں ہاؤس آفیسرز کے لیے 114 پیڈ ہاؤس جاب (اسٹیپنڈری) سلاٹس کی تخلیق کی منظوری دے دی گئی ہے
صوبائی وزیرِ خلیق الرحمان کی کاوشوں سے 114 پیڈ ہاؤس جاب سلاٹس کی منظوری،103.421 ملین روپے کے فنڈز جاری

مزید خبریں
پشاور۔ 01 جولائی (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی خصوصی دلچسپی اور مؤثر کاوشوں کے نتیجے میں صوبے کے سرکاری طبی اداروں میں ہاؤس آفیسرز کے لیے 114 پیڈ ہاؤس جاب (اسٹیپنڈری) سلاٹس کی تخلیق کی منظوری دے دی گئی ہے، اس مقصد کے لیے 103.421 ملین روپے کے مالی اخراجات کی بھی منظوری جاری کر دی گئی ہے۔منظور شدہ سلاٹس کے تحت خیبر میڈیکل یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، کوہاٹ کے لیے 30، سیدو کالج آف ڈینٹسٹری، سوات کے لیے 60 اور سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال، سوات کے لیے 24 پیڈ ہاؤس جاب سلاٹس مختص کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے اس پیش رفت کو نوجوان ڈاکٹروں اور ہاؤس آفیسرز کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شعبۂ صحت میں انسانی وسائل کی مضبوطی اور نوجوان طبی گریجویٹس کو بہتر تربیتی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیڈ ہاؤس جاب سلاٹس کی فراہمی سے نہ صرف ہاؤس آفیسرز کو مالی معاونت میسر آئے گی بلکہ سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں تربیت کے معیار اور صحت کی خدمات کی فراہمی میں بھی مزید بہتری آئے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منظور شدہ سلاٹس پر تقرری کا عمل شفافیت، میرٹ اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ مستحق ہاؤس آفیسرز اس سہولت سے بروقت استفادہ کر سکیں۔انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ محکمہ صحت صوبے میں طبی تعلیم، نوجوان ڈاکٹروں کی فلاح و بہبود اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی اصلاحاتی کاوشیں جاری رکھے گا۔








