کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیرقانونی اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث ریاستی خزانے کو 15 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے، سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد حنیف کی پریس کانفرنس
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیرقانونی اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث ریاستی خزانے کو 15 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے، سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد حنیف کی پریس کانفرنس
مظفر آباد۔6جولائی (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی غیرقانونی اور پرتشدد سرگرمیوں کے باعث ریاستی خزانے کو 15 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے۔پیر کو آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کی حامل ریاست کے لئے یہ نقصان انتہائی سنگین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم نے انسانی حقوق کے نام پر امن و امان، معمولات زندگی، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ یہ تحریک ابتدائی طور پر 2020 کی دہائی کے آغاز میں کورونا وبا ءکے بعد پیدا ہونے والی عالمی مہنگائی کے تناظر میں شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے فوری طور پر آٹے اور بجلی پر سبسڈی فراہم کی جبکہ آزاد کشمیر میں آج بھی پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں آٹا اور بجلی سب سے کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں عوامی نوعیت کی یہ تحریک بعد میں ریاست مخالف عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی اور اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر سیاسی عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بن گئی جو بالآخر ایک غیر رجسٹرڈ اور ریاست مخالف تحریک میں تبدیل ہوگئی۔اس موقع پر میڈیا کو ویڈیو شواہد بھی فراہم کئے گئے جن میں جے اے اے سی کے رہنما اور بیرون ملک موجود ان کے ہینڈلرز، پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف نعرے لگاتے اور انتشار پھیلانے کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کی سرگرمیاں پرامن احتجاج سے بڑھ کر ریاستی تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منظم حملوں تک جا پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2023 کے دھرنے کے دوران ڈڈیال میں سرکاری املاک پر حملے کئے گئے جبکہ 2024 کے دھرنے میں مظاہرین نے اسلام آباد پولیس سے پرتشدد جھڑپیں کیں اور پولیس کی وردیوں کی بے حرمتی کی۔انہوں نے کہا کہ اس تنظیم سے وابستہ عناصر نے چمیاٹی میں ایک اسسٹنٹ کمشنر پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی جبکہ باغ میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور دیگر سرکاری اہلکاروں پر تشدد کیا گیا۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم گروپ نے اہم شاہراہیں بند کرکے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل روک کر معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں حویلی کے علاقے ہجیرہ میں بازار زبردستی بند کرانے کی کوشش کی گئی جسے ضلعی انتظامیہ نے ناکام بنا دیا۔
انہوں نے پونچھ ڈویژن میں شہریوں کو ہراساں کرنے اور نوجوانوں کو لاٹھیاں فراہم کرنے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا نہایت خطرناک اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔محمد راشد حنیف نے کہا کہ ریاست کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے بیرونی مالی معاونت اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو بدامنی پر اکسانے کی کوششوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم سیاسی مقاصد کے لئے مساجد کا استعمال اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم بھی چلا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے عناصر کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ منفی ڈیجیٹل پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور خطے میں مکمل معمولات کی بحالی کے لئے قانونی اور جمہوری سیاسی عمل میں فعال کردار ادا کریں۔









