"سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بروقت تکمیل اور مؤثر نگرانی پر زور دیا۔”
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی کااجلاس، بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور لاگت میں اضافے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیرکویہاں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پنجاب اور بلوچستان میں غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں کاتفصیل سے جائزہ لیاگیا۔ بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں غیرملکی امداد سے 11 مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 سے اب تک غیرملکی معاونت سے مجموعی طور پر 45 منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے 14 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی مختلف مراحل میں ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے استفسار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجوہات کیا ہیں جس پر حکام نے بتایا کہ منصوبوں میں تاخیر کی پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن میں بعض اوقات ڈونر ایجنسیوں سے متعلق معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے سوال اٹھایا کہ آیا حکام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کبھی تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ نے وضاحت کی کہ اصل مسئلہ ڈونر ایجنسیوں سے زیادہ سرکاری اداروں کی جانب سے خریداری کا عمل بروقت مکمل نہ ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بین الاقوامی قواعد کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل درکار ہوتا ہے جسے متعلقہ ادارے اکثر مقررہ وقت میں مکمل نہیں کر پاتے جس کے باعث منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ پروکیورمنٹ کا عمل بروقت مکمل نہیں ہو پاتا۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے سوال کیا کہ منصوبوں میں تاخیر کے باعث لاگت میں کتنا اضافہ ہوا ہے اس پر حکام نے بتایا کہ 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی ابتدائی لاگت 54 کروڑ روپے تھی جو تاخیر کے باعث بڑھ کر 2 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ذیلی کمیٹی نے منصوبوں میں غیرمعمولی تاخیر اور لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیرملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار بہتر بنانے، پروکیورمنٹ کے نظام کو موثر بنانے اور عوامی وسائل کے ضیاع کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔









