نیب کراچی نے 34 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی ضبط شدہ چار جائیدادیں حکومت کے حوالے کر دیں

"نیب کراچی نے بدعنوانی کیس میں ضبط شدہ تقریباً 34 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی چار جائیدادیں حکومت پاکستان کے حوالے کر دیں، قومی اثاثوں کے تحفظ اور احتسابی عمل میں اہم پیش رفت۔”

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے مقدمے میں سزا یافتہ سابق رکن قومی اسمبلی عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سے ضبط کی گئی تقریباً 34 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی چار جائیدادوں کا قبضہ ڈائریکٹر جنرل سٹیٹ، وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا۔

نیب ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں انکوائری اور تفتیش کے بعد احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس نمبر 44/2001 دائر کیا گیا تھا۔ احتساب عدالت نے 28 جون 2002ء کو فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو سات، سات سال قید بامشقت، ایک، ایک ملین روپے جرمانہ اور چار جائیدادیں ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔نیب کے مطابق سزا یافتہ ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں تاہم دونوں عدالتوں نے اپیلیں مسترد کر دیں جس کے بعد نیب نے ضبط شدہ جائیدادوں کا قبضہ حاصل کر لیا۔ضبط کی گئی جائیدادوں میں ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کراچی کے فیز فائیو ایکسٹینشن میں واقع رہائشی مکان، کے ڈی اے سکیم اے-1 ایکسٹینشن کا ایک پلاٹ جبکہ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہاکس بے سکیم نمبر 42 میں واقع دو پلاٹس شامل ہیں۔جائیدادوں کی حوالگی کے سلسلے میں پیر کو نیب کراچی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی نے ڈائریکٹر جنرل سٹیٹ، وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس عبید الدین کو چاروں جائیدادوں کا قبضہ باضابطہ طور پر حوالے کیا۔اس موقع پر ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ نیب لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی اور اسے متعلقہ محکموں اور متاثرہ افراد تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی قیادت میں ادارہ پیشہ ورانہ انداز میں بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ بدعنوان عناصر کا احتساب اور قومی اثاثوں کی بازیابی نیب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔