ایک دہائی بعد بھی بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی نوجوان نسل برہان وانی کی مزاحمتی میراث کی امین

"برہان مظفر وانی کی دسویں برسی کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریکِ آزادی، نوجوانوں کی قربانیوں اور خطے کی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔”

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):ممتاز کشمیری نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی 8 جولائی کو منائی جانے والی دسویں برسی بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف کشمیری عوام کی مقامی تحریکِ آزادی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے جو نوجوانوں اور قیادت کی عظیم قربانیوں کو نمایاں طور پر اجاگر کرتی ہے۔

برہان وانی ایک ذہین اور باصلاحیت طالب علم تھے جنہوں نے کم عمری میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے 16 اکتوبر 2010 کو مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی جس کی وجہ بھارتی فورسز کے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کو قرار دیا جاتا ہے۔بطور کمانڈر حزب المجاہدین، برہان وانی کشمیری مزاحمت کی ایک نمایاں علامت بن گئے۔ انہوں نے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے کشمیری مؤقف کو اجاگر کیا جس کے باعث وہ خصوصاً نوجوانوں میں مقبول ہوئے۔ چھ برس تک وہ بھارتی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھے جاتے رہے اور جدید مواصلاتی ذرائع کے استعمال سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔برہان وانی کو ایک ذہین اور باصلاحیت مزاحمتی رہنما قرار دیا گیا ہے، جو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے مؤقف کی حمایت کرتے تھے۔ وہ اور ان کے ساتھی دن کے وقت آرام کرتے اور رات کے وقت جنوبی کشمیر میں نقل و حرکت کرتے تھے۔ مقامی آبادی کی حمایت کے باعث وہ متعدد مرتبہ بھارتی فوج کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔8 جولائی 2016 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے برہان وانی کو ایک کارروائی میں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد وادی میں کئی ماہ تک احتجاج اور بدامنی کا سلسلہ جاری رہا جس میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اسی دوران سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ برہان وانی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور انہیں اپنے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کی قبر کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔ برہان وانی کی قربانی نے غیر ملکی جنگجوؤں سے متعلق بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اس مؤقف کو تقویت دی کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی مکمل طور پر مقامی ہے، جس کی قیادت تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان، طلبہ، اسکالرز اور جدید ٹیکنالوجی سے واقف افراد کر رہے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی انٹیلی جنس کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی بھرتیوں کی تعداد 2014 میں 53 اور 2015 میں 66 تھی، جو 2016 میں بڑھ کر 100 سے تجاوز کر گئی، 2017 میں 126 تک پہنچی اور 2018 میں 191 کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔ برہان وانی کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی خاصی توجہ حاصل ہوئی۔2026 میں ایک دہائی گزرنے کے باوجود برہان وانی کی یاد کشمیری نوجوان نسل میں موجود ہے جو سوشل میڈیا، شاعری، فن اور تعلیم جیسے ذرائع کے ذریعے اپنے مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھارت کی جانب سے انٹرنیٹ بندش، سوشل میڈیا پر پابندیوں، کرفیو، گرفتاریوں، ہلاکتوں، مکانات کی مسماری، تشدد، جبری گمشدگیوں اور دیگر اقدامات کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد جاری ہے۔