امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر کڑی تنقید،یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

امریکا نے افغان طالبان حکومت پر ایک بار پھر غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):امریکا نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کا معاملہ ایک بار پھراٹھا دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ افغان طالبان رجیم اب بھی غیر ملکی شہریوں کو”یرغمال بنانے کی پالیسی” پرعمل پیرا ہے، افغان طالبان "ہوسٹیج ٹیکنگ پالیسی” کے تحت قید تمام بے قصورامریکی شہریوں کوفوری رہا کرے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ امریکا کے اہم ترین قومی مفادات میں شامل ہے ۔الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پرطالبان رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ افغان طالبان رجیم میں خواتین کے انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے،افغان طالبان رجیم خواتین اور معصوم بچیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے ۔عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا کر انہیں سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے،افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی، دہشت گردوں کی سرپرستی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اسے سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔