وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا باقاعدگی سے جم جانا صحت مند طرزِ زندگی، جسمانی فٹنس اور خواتین میں صحت سے متعلق شعور کے فروغ کی مثبت علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد کا باقاعدگی سے جم جانا جسمانی نشوونما اور فٹنس کیلئے حوصلہ افزا اقدام

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد بھی باقاعدگی سے جم جاتی ہے جو جسمانی نشوونما اور فٹنس کیلئے حوصلہ افزا اقدام ہے۔
اپریل 2026ء تک اسلام آباد میں قائم جمز کی تعداد 225 ریکارڈ کی گئی ہے جو 2023ء کے مقابلے میں 7.08 فیصد زائد ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں خواتین بڑی تعداد میں جمز کا رخ کرتی ہیں جس سے یہ تاثر تیزی سے بدل رہا ہے کہ جم صرف مردوں کی فٹنس کا ذریعہ ہے۔ سمارٹ سکریپرکے مطابق خواتین کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے اب جم مالکان بھی اسی حوالہ سے اس میں جدت اور تبدیلیاں لارہے ہیں۔ شاہین ٹائون لیڈیز فٹنس کلب کی مالکن فرزانہ امین نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ ان کے پاس ابتدا میں صرف 10 سے 15 خواتین رجسٹرڈ تھیں تاہم اب یہ ممبر شپ بڑھ کر تقریباً 60 سے 65 خواتین تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سی خواتین اپنی صحت اور فٹنس بہتر بنانا چاہتی ہیں تاہم مخلوط جمز میں جانے سے کتراتی ہیں، اس لئے میں نے ایک محفوظ، آرام دہ اور معاون ماحول فراہم کرنے کیلئے خواتین کا الگ جم قائم کیا ہے۔ ایک گھریلو خاتون مسرت شاہین نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ انہوں نے کبھی ورزش کا نہیں سوچا تھا تاہم عمر کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ فعال رہنا میرے لئے اہم ہے، فٹنس سے ہر عمر میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ باقاعدگی سے جم جانے والی ثناء خان نے بتایا کہ طویل دفتری مصروفیات اور غیر فعال تیز زندگی کی وجہ سے تھکاوٹ کے بعد جم میں سکون پایا، جب سے جم جانے لگی میری صحت اور توانائی میں بہتری آَئی ہے، اور نفسیاتی چیلنجز سے بھی نجات ملتی ہے۔ جم ممبر زرمینہ علی نے بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم آگاہی تو بڑھاتے ہیں، ساتھ زہریلی معیار بھی پیدا کرتے ہیں۔ جم میں جانے کے ساتھ ساتھ فٹنس کیلئے صبر اور لگن درکار ہے جو طویل المدتی عزم ہے۔ جم انسٹرکٹر میمونہ خالد نے بتایا کہ نوجوان لڑکیاں زیادہ تر صحت مند، مضبوط اور پراعتماد بننا چاہتی ہیں، باقاعدہ ورزش ذہنی صحت اور مجموعی زندگی کے معیار کو بہتر کرتی ہے۔ ڈاکٹر غلام فرید سومرو نے کہا کہ ڈائیٹنگ کی وجہ سے فوری تھکاوٹ، پٹھوں کے نقصان اور مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جبکہ اس سے ہارمونل عدم توازن، ہڈیوں کے نقصان اور آئرن، پروٹین سمیت اہم وٹامنز کی شدید کمی کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔ نیوٹریشنسٹ ڈاکٹر سمیرا نسیم نے واضح کیا کہ ڈاکٹر صرف سرجری سے پہلے مخصوصی طبی حالات میں موٹاپے کے خاتمہ کیلئے محدود خوراک کی سفارش کرتے ہیں، مصنوعی وزن کم کرنے کیلئے یہ اقدام خطرناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ بالغ افراد کو روزانہ 1200 کیلیریز ضرور لینی چاہئیں۔ ایک ماہ میں 10 سے 15 کلو وزن کم کرنے کے دعوے زیادہ تر جم مارکیٹنگ کی چال ہوتی ہے۔








