وفاقی محتسب کا اے آئی وژن، فیصلوں پر 60 روز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ

وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز بنانے کے لیے ادارے میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ محتسب کے فیصلوں پر 60 روز کے اندر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز بنانے کے لیے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اصلاحات متعارف کرا رہا ہےجبکہ محتسب کے فیصلوں پر مقررہ 60 روزہ مدت کے اندر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اتوار کوپی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق اصلاحات نے محتسب کے نظام کو مزید مضبوط بنایا ہےجس کے ذریعے عوام کو فوری، شفاف اور آسان انصاف کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے کی توجہ بالخصوص معاشرے کےکمزور اور محروم طبقات کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ تقریباً 90 فیصد شکایات مختلف سرکاری محکموں اور عوامی دفاتر کے خلاف موصول ہوتی ہیں۔نوید کامران بلوچ نے بتایا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کےذریعے انصاف کی سہولت شہریوں کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہے اور محتسب کے فیصلوں پر 60 روز کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ اس مدت کو مزید کم کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے لیے عوامی آگاہی نہایت اہم ہے، اسی مقصد کے تحت وفاقی محتسب شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔مختلف عوامی خدمات انجام دینے والے اداروں، جن میں نادرا، ہوائی اڈے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، بجلی کا شعبہ اور دیگر ادارے شامل ہیں، میں مانیٹرنگ سیلز اور فوکل پرسنز تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کودرپیش مسائل کے حل کے لیے بھی وفاقی محتسب مؤثر رابطہ کاری کر رہا ہے، جس میں سیکریٹری خارجہ متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری خدمات کو زیادہ شفاف ، جوابدہ اور عوام دوست بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی محتسب نے کہا کہ عوام سے براہ راست رابطہ رکھنے والے ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے اس مقصد کے لیے تربیتی پروگراموں اور خصوصی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب نہ صرف شہریوں کو انصاف فراہم کرتا ہے بلکہ اداروں میں احتساب، شفافیت اور ساکھ کو بھی فروغ دیتا ہے، جبکہ عوامی آراء سے ادارے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔شکایات درج کرانے کے طریقہ کار سے متعلق انہوں نے بتایا کہ شہری تحریری درخواست کے علاوہ ٹیلی فون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی وفاقی محتسب سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیےخصوصی ٹیمیں اور محققین شکایت کنندگان کی رہنمائی اورفوری معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال وفاقی محتسب کو دو لاکھ 56 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جبکہ وہ روزانہ تقریباً 920 سے ایک ہزار شکایات کا ذاتی طور پر جائزہ لیتے ہیں۔نوید کامران بلوچ نے کہا کہ شکایات کے مؤثر تجزیے، کارکردگی میں بہتری اور فوری فیصلوں کے لیے اے آئی پر مبنی فرانزک ڈیجیٹل نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر شکایات عوامی خدمات انجام دینے والے سرکاری اداروں سے متعلق ہوتی ہیں، جبکہ وفاقی محتسب اس وقت 12 سے 14 اہم عوامی اداروں کے ساتھ مل کر اصلاحات متعارف کرا رہا ہے تاکہ ان کی کارکردگی اور عوامی اطمینان میں مزید اضافہ ہو۔ اپنے اختتامی خطاب میں وفاقی محتسب نے عوامی آگاہی، شہریوں کے وقار اور ہمدردانہ رویے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب ہر شہری کو آسان، منصفانہ اور باوقار انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نےکہا کہ وفاقی محتسب انتظامی احتساب کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے، جو عوامی شکایات کے ازالے، بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت، جوابدہی اور سرکاری خدمات کی مؤثریت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید خبریں