حکومت کا سیالکوٹ کی سرجیکل آلات کی صنعت کی جدیدکاری کے لیے 2.8 ارب روپے کا منصوبہ

حکومت نے سیالکوٹ اور ملحقہ صنعتی علاقوں میں تکنیکی تربیتی مراکز کی اپ گریڈیشن کے لیے 2.8 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد سرجیکل آلات اور جدید طبی آلات کی صنعت کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی صلاحیت اور تکنیکی مہارت میں اضافہ کرنا ہے۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):حکومت نے سیالکوٹ اور اس سے ملحقہ صنعتی علاقوں میں تکنیکی تربیتی مراکز کو اپ گریڈ کرکے سرجیکل آلات اور ابھرتی ہوئی طبی آلات کی صنعت میں افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی مہارت بڑھانے کے لیے 2.8 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کودستیاب دستاویزات کے مطابق ’’ورک فورس ڈویلپمنٹ فار سرجیکل سیکٹر‘‘ کے عنوان سے یہ منصوبہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نافذ کرے گی۔ اس میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)اور صوبائی ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز (ٹیوٹاز) شراکت دار ہوں گی۔مجوزہ پروگرام کے تحت مہارتوں کے فرق کا جائزہ، نصاب کی تیاری، تربیتی مراکز کی بحالی اور توسیع، جدید تربیتی آلات کی فراہمی، مختصر دورانیے کے سرٹیفکیٹ کورسز اور ٹرینرز کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق پاکستان کی سرجیکل آلات صنعت کا تقریباً 90 فیصد حصہ سیالکوٹ میں مرکوز ہے۔ 2024 کے دوران اس شعبے کی برآمدات تقریباً 44 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا کے بڑے سرجیکل آلات برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔تاہم عالمی منڈی میں اس شعبے کا حصہ اب بھی محدود ہے، جس کی بڑی وجوہات زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی جانب سست پیش رفت، پریسیژن مینوفیکچرنگ، کوالٹی اشورنس اور معیار سے متعلق دستاویزی تقاضوں میں موجود خامیاں ہیں۔دستاویزات کے مطابق اس شعبے نے 2039 تک برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے بنیادی سرجیکل آلات سے آگے بڑھتے ہوئے زیادہ ویلیو ایڈڈ طبی، ڈینٹل اور آپتھلمک آلات کی تیاری ناگزیر ہوگی۔منصوبے کے تحت سرجیکل آلات کی ویلیو چین میں پیشہ ورانہ مہارتوں کا جامع تجزیہ کیا جائے گا، جس میں فورجنگ، کمپیوٹرائزڈ نیومریکل کنٹرول (سی این سی) مشیننگ، گرائنڈنگ اور پالشنگ، الیکٹرو پالشنگ، پاسیویشن، کوالٹی کنٹرول اور دستاویزی نظام شامل ہوں گے۔ ترجیحی شعبوں کے لیے مہارت پر مبنی نصاب تیار کیا جائے گا، جس میں معیار سے متعلق دستاویزات، آئی ایس او 13485 کوالٹی مینجمنٹ اصول، میڈیکل ڈیوائس ریگولیشن (ایم ڈی آر/سی ای) سے متعلق بنیادی آگاہی اور بین الاقوامی خریداروں کے تقاضوں کے مطابق ٹریس ایبلٹی کی تربیت بھی شامل ہوگی۔سیالکوٹ کے تکنیکی تربیتی مراکز کی بحالی، توسیع اور جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ ان میں پریسیژن مشیننگ لیبارٹریاں، گرائنڈنگ اور پالشنگ ورکشاپس، کوالٹی کنٹرول اسٹیشنز اور معیار سے متعلق دستاویزات کی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے میں سی این سی مشینوں، پاؤڈر میٹالرجی پر مبنی مشین ٹولز، کاسٹنگ میٹل اِن مولڈ ٹیکنالوجی، انتہائی کم درجہ حرارت پر کوئنچنگ کے آلات، بینچ ٹولز، میٹرولوجی آلات، سختی اور سطح جانچنے والے آلات اور جدید کوالٹی ڈاکیومنٹیشن سسٹمز کی خریداری بھی شامل ہے۔اس پروگرام کے تحت فورجنگ، پریسیژن مینوفیکچرنگ، ہیٹ ٹریٹمنٹ، مشیننگ، لیس فیبریکیشن، کوالٹی اشورنس اور برآمدی دستاویزات سے متعلق مختصر کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام اور سپروائزری سطح کی تربیت فراہم کی جائے گی، جس سے نئے افراد کے ساتھ ساتھ پہلے سے کام کرنے والے کارکن بھی مستفید ہوں گے۔منصوبے کے تحت ملک میں ہی ٹرینرز تیار کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے تکنیکی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر طبی آلات کی تربیت فراہم کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا۔مجوزہ مالیاتی منصوبے کے مطابق اس منصوبے کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مجموعی طور پر 2.8 ارب روپے درکار ہوں گے، جبکہ اس میں کسی قسم کا غیر ملکی زرمبادلہ شامل نہیں ہوگا۔منصوبہ پانچ مالی سالوں میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ اس کے لیے مالی سال 27-2026 میں 28 کروڑ روپے، مالی سال 28-2027 میں 84 کروڑ روپے، جبکہ مالی سال 29 ۔2028 سے مالی سال 31 ۔2030 تک ہر سال 56 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ سمیڈا منصوبے کی رابطہ کاری اور عمل درآمد کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ نیوٹیک قومی مہارتی فریم ورک کے مطابق پروگرام کی ہم آہنگی یقینی بنائے گا۔ صوبائی ٹیوٹاز سیالکوٹ کے تربیتی اداروں میں پروگرام کے نفاذ کی نگرانی کریں گی۔اس کے علاوہ سیالکوٹ سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سمیت صنعتی تنظیموں کو مہارتوں کے فرق کے جائزے، نصاب کی توثیق اور تربیت یافتہ افراد کو صنعت میں روزگار فراہم کرنے کے عمل میں شریک کیا جائے گا۔منصوبے کے متوقع نتائج میں جدید مشینری سے لیس تربیتی مراکز کا قیام، سرجیکل صنعت کے لیے جدید اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ نصاب کی تیاری، سیالکوٹ کلسٹر میں تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ افرادی قوت کی دستیابی میں اضافہ، پیداواری صلاحیت میں بہتری، مصنوعات کے معیار میں یکسانیت اور صنعت میں معیار سے متعلق دستاویزی نظام کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

مزید خبریں