وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ کا ساہیوال میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح

وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے ضلع ساہیوال کے گاؤں داد بلوچ، یونین کونسل کریال-1 میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا، جس سے مقامی آبادی کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہوگی۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے ضلع ساہیوال کے گاؤں داد بلوچ، یونین کونسل کریال۔1 میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا۔

یہ منصوبہ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف)کے تحت اس کے شراکتی ادارے کمپری ہینسو ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فورم (سی ایچ ای ایف ) کے ذریعے بلڈنگ ریزیلینٹ کمیونٹیز فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ (بی آر سی ایس ڈی ) منصوبے کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔ تقریب میں رکن پنجاب اسمبلی پیر ولایت شاہ کھگہ، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی اے ایف نادر گل بڑیچ، چیف ایگزیکٹو آفیسر شیف انٹرنیشنل سہیل ایاز خان، ڈاکٹر احمد خاور شہزاد، پی پی اے ایف اور شیف کے اعلیٰ حکام اور مقامی افراد نے شرکت کی۔تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ بالخصوص دیہی اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ عوام کی صحت، روزگار اور مقامی آبادی کی مضبوطی کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا جائے۔وفاقی وزیر نےغربت میں کمی اور جامع ترقی کے لیے پی پی اے ایف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ملک کے 150 اضلاع میں موجودگی اور تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد تک رسائی پائیدار ترقی اور عوامی بااختیاری کے لیے اس کے مؤثر کردار کی عکاس ہے۔ انہوں نےساہیوال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں، طبی سہولیات اور لائیو اسٹاک کی معاونت سمیت پی پی اے ایف کی ترقیاتی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ نیا شمسی توانائی سے چلنے والا واٹر فلٹریشن پلانٹ تقریباً 550 گھرانوں، یعنی 6 ہزار سے زائد افراد کو صاف پینے کا پانی فراہم کرے گا۔ وفاقی وزیر نے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے پی پی اے ایف اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے کہا کہ پائیدار غربت میں کمی کا آغاز بااختیار کمیونٹیز سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی اے ایف گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی آبادی کے اشتراک سے روزگار، بنیادی سہولیات اور کمیونٹی کی استعداد میں اضافے کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی پی اے ایف نے ملک بھر میں 28 لاکھ گھرانوں کو منظم کیا، 35 ہزار سے زائد کمیونٹی انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے، تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کو فائدہ پہنچایا اور تین لاکھ دو ہزار سے زائد انتہائی غریب گھرانوں کو پیداواری اثاثے فراہم کیے۔ پنجاب میں ادارے نے 9 ہزار سے زائد کمیونٹی انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے جن سے 51 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ساہیوال میں پی پی اے ایف 160 سے زائد کمیونٹی انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کر چکا ہے جن سے 12 ہزار سے زائدگھرانوں کے 81 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیا شمسی توانائی سے چلنے والا واٹر فلٹریشن پلانٹ محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ کمیونٹی ترقی کے لیے پی پی اے ایف کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یہ واٹر فلٹریشن پلانٹ 13 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بلڈنگ ریزیلینٹ کمیونٹیز فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ منصوبے کے تحت قائم کیا گیاجس پر شیف انٹرنیشنل دو سال کے عرصے میں عملدرآمد کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت 28 ولیج آرگنائزیشنز کی استعداد کار میں اضافہ، 28 ولیج ڈویلپمنٹ پلانز کی تیاری، کمیونٹی تربیت، 24 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب، جن سے 4,800 گھرانے (33,600 افراد) مستفید ہوں گے، جبکہ 4 ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹس کے ذریعے مزید 1,200 گھرانوں (3,600 افراد) کو صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔3.73 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے گاؤں داد بلوچ کے اس منصوبے میں 250 گیلن فی گھنٹہ استعداد کا واٹر فلٹریشن پلانٹ، 150 فٹ گہرا بور اور 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو پائیدار بنیادوں پر صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر گاؤں گیمبر، ساہیوال میں اسی منصوبے کے تحت ایک اور شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔

مزید خبریں