پاکستان کی میزبانی میں وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام او آئی سی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کے پہلے روز تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جبکہ رکن ممالک کے وزراء، اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی نمائندوں کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی جاری رہیں۔
او آئی سی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کے پہلے روز تکنیکی اجلاس ، کانفرنس کے ایجنڈے کی منظوری ، او آئی سی پلان آف ایکشن برائے خواتین پر عملدرآمد کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):پاکستان کی میزبانی میں وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام منعقدہ او آئی سی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کے پہلے روز تکنیکی اجلاس منعقد ہوئےجبکہ او آئی سی رکن ممالک کے وزراء، اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
اتوار کووزارت انسانی حقوق کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تکنیکی اجلاسوں کے دوران کانفرنس کے ایجنڈے کی منظوری دی گئی اور او آئی سی پلان آف ایکشن برائے خواتین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسلامی دنیا میں خواتین کو درپیش چیلنجز، ان کی سماجی، معاشی اور سیاسی خودمختاری، تعلیم، صحت، معاشی مواقع، مالی شمولیت،فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں میں خواتین کی نمائندگی سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ آٹھویں وزارتی کانفرنس کی چیئر کی جانب سے گزشتہ کانفرنس کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے او آئی سی کے تحت کیے گئے اقدامات اور حاصل ہونے والی پیش رفت پر شرکاء کو بریفنگ دی گئی جبکہ خواتین کی ترقی سے متعلق مختلف اداروں کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔او آئی سی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کا وزارتی اجلاس کل پیر کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس کے دوران کانفرنس کی چیئرمین شپ باضابطہ طور پر مصر سے پاکستان کو منتقل کی جائے گی۔ کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ اور خواتین کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے سے متعلق متعدد اہم قراردادوں کی منظوری متوقع ہے۔کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف وانسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایران، ترکیہ، مملکت سعودی عرب، مصر، بوسنیا و ہرزیگووینا، شام، صومالیہ اور یمن کے وزراء و اعلیٰ حکام کے علاوہ ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور او آئی سی لیبر سینٹر کے نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خواتین کے حقوق، خاندانی نظام کے استحکام، سماجی تحفظ، خواتین کی معاشی و سیاسی خودمختاری، ادارہ جاتی تعاون، تجربات کے تبادلے اور او آئی سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ترکیہ کے ساتھ خاندان، سماجی خدمات اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ مختلف ممالک کے وفود نے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی آئندہ دو سالہ چیئرمین شپ سنبھالنے پر پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے، خاندانی فلاح، سماجی تحفظ اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








