سپریم کورٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کے بعد نیب مقدمات میں دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی سوال پر سماعت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو وفاقی حکومت اور نیب کے دلائل پر جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت بھی کی
سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کے بعد نیب مقدمات میں دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی سوال پر سماعت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو وفاقی حکومت اور نیب کے دلائل پر جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت بھی کی۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق نیب مقدمات میں ضمانت اور سزا کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی مقدمے کا ایک حصہ سپریم کورٹ اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت سنے۔ نیب پراسیکیوشن نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی حمایت کی۔درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب ترامیم میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق صرف سزا کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، جبکہ ضمانت کے مقدمات بدستور سپریم کورٹ سن سکتی ہے۔وکیل نے مزید کہا کہ نیب ترامیم کے بعد بھی سپریم کورٹ ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر چکی ہے اور اس وقت نیب نے عدالت کے دائرہ اختیار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔اس پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا پہلے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا گیا تھا؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 18 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران ایسا کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ دائرہ اختیار سب سے پہلی قانونی رکاوٹ ہوتی ہے، جسے نیب نے خود ہی نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ دائرہ اختیار پر اعتراض نہ اٹھانا نیب کی نااہلی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ نیب کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی۔بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔








