اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے گرد بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی اپیل کی ہے
چین کا یمن میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار،فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے گرد بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ چین کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یمن سمیت مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری کی جائے اور شہریوں، امدادی کارکنوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ چینی سفارت کار نے کہا کہ یمن کا بحران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں حالیہ کشیدگی خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات کو درپیش چیلنجز باعث تشویش ہیں، کسی بھی نئی فوجی کشیدگی سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔سن لی نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کریں، دھمکی آمیز بیانات اور طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کا حل تلاش کریں۔انہوں نے یمن سے متعلق تمام فریقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو کشیدگی میں اضافے یا باہمی اعتماد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔چین نے امریکااور ایران سے جلد از جلد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور ایسا جامع معاہدہ طے کرنے پر بھی زور دیا جس پر دونوں ممالک متفق ہوں، جسے خطے کے ممالک قبول کریں اور جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہو۔سن لی نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کی جلد بحالی کو تمام فریقوں کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق مسائل کا پرامن اور مناسب حل تلاش کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں اور بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ خطے کے ممالک کی خودمختار پالیسیوں، باہمی تعاون اور مفاہمت کی حمایت کرے تاکہ خطہ مستقل امن اور استحکام کی جانب بڑھ سکے۔








