ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ شدید تنقید کی زد میں، رپورٹ میں غیر تصدیق شدہ دعوئوں پر انحصار اور آپریشنل سیاق و سباق کو نظر انداز کیا گیا، تجزیہ کار
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ شدید تنقید کی زد میں، رپورٹ میں غیر تصدیق شدہ دعوئوں پر انحصار اور آپریشنل سیاق و سباق کو نظر انداز کیا گیا، تجزیہ کار

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے 16 مارچ 2026ء کے اہداف پر مبنی حملوں کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ غیر تصدیق شدہ دعوئوں ، آپریشنل سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے پر انحصار کئےجانے کی بنا پر شدید تنقید کی زد میں ہے ۔سکیورٹی تجزیہ کاروں اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بنیادی طور پر افغان طالبان اور یو این اے ایم اے کے بیانیے پر انحصار کرتی ہے جس میں پاکستان کی دہشت گرد انفراسٹرکچر کے خلاف نشانہ بنائے گئے اقدامات کی وجوہات اور اہم آپریشنل شواہد اور انٹیلی جنس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ایمنسٹی کا بنیادی الزام کہ ایک 2,000 بستروں والے ہسپتال کونشانہ بنایا گیا، آپریشنل حقیقت سے بنیادی طور پر متصادم ہے۔ ایسی بڑی سہولت مریض، طبی عملہ، زائرین اور ایمرجنسی سروسز سمیت 4,000 سے زائد افراد کی گنجائش کی حامل ہوسکتی ہے ۔
اتنی بڑی فعال جگہ پر حملہ بڑے پیمانے پر انخلاء اور موبائل ڈیوائسز اور سی سی ٹی وی کیمروں سے ریئل ٹائم ویڈیو شواہد کی بھرمار کا سبب بنتی تاہم کسی بھی ایسے فوٹیج کی مکمل عدم موجودگی رپورٹ کے بنیادی دعوئوں پر سنگین شکوک پیدا کرتی ہے۔مزید برآں ایمنسٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے 60 سے زائد تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق کی اور صرف 11 انٹرویوز ہسپتال کے عملے اور زائرین سے کئے، جو ہزاروں افراد والے مبینہ مرکز کے لیے اعداد و شمار کے لحاظ سے نہایت غیر معتبر نمونہ ہے۔نتائج کی ساکھ اس مکمل معلوماتی خلا سے مزید کمزور ہوتی ہے جس میں بین الاقوامی مبصرین افغانستان میں کام کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2721 (2023) کے تحت اقوام متحدہ کو افغانستان کے لیے زمینی حقائق جانچنے کے لیے ایک خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا تاہم طالبان رجیم نے اس تقرری کو مسترد کر دیا، خصوصی ایلچی کو روک لیا اور اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر رچرڈ بینٹ کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اس کے علاوہ طالبان رجیم نے خواتین کو یواین اے ایم اے کمپائونڈز میں داخل ہونے یا ایجنسی کے ساتھ کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے جس سے افغان آبادی کے 50 فیصد تک رسائی موثر طور پر منقطع ہو گئی ہے۔ مردوں کو بھی حساس علاقوں بشمول وہ طبی سہولیات جہاں خواتین کام کرتی ہیں، میں داخلے سے روکا گیا ہے جس سے یہ مقامات ’’ بلائنڈز سپاٹس ‘‘میں تبدیل ہوگئے جنہیں طالبان رجیم دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے باقاعدگی سے استعمال کرتی ہے ۔ آزادانہ زمینی رسائی کے بغیر، ایمنسٹی کے نتائج ایک ایسے رجیم کے غیر چیلنج شدہ دعوئوں پر انحصار کرتے ہیں جس کے پاس حقائق کو مسخ کرنے کی ہر ترغیب موجود ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل میں اندرونی سیاسی ساز باز اور قیادت کی جانبداری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ پر جنوبی ایشیا کی ایکٹنگ ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لیسی نے دستخط کیے ہیں جو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔اصل ریجنل ڈائریکٹر سمریتی سنگھ ایک بھارتی شہری ہیں جن کا پس منظر ٹائمز آف انڈیا سے وابستہ ہے،ایک ایسی پبلیکیشن جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی’’ را‘‘ سے منسلک سمجھی جاتی ہے جس سے ممکنہ جانبداری اور بھارت پر مبنی نیٹ ورکس کے ساتھ ہم آہنگی پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ازابیل کو ایک محض سامنے والا چہرہ بنایا گیا تاکہ وہ رپورٹ جاری کر سکیں جس پر سمریتی سنگھ معتبر طورپر اپنا نام منسلک نہیں کر سکتی تھیں۔جنوبی ایشیا آفس کے زیادہ تر عملے کے بھارت میں مقیم ہونے کی وجہ سے ایمنسٹی طویل عرصے سے بھارت کی سرپرستی والے گروپس کی پروپیگنڈا کو دہرانے، پاکستان کے خلاف دشمنی کی پوزیشن اختیار کرنے اور علاقائی کراس بارڈر دہشت گردی پر منتخب خاموشی اختیار کرنے کی تنقید کا شکار رہا ہے۔
پاکستان کا باضابطہ موقف واضح اور قطعی ہے کہ کسی ہسپتال یا بحالی مرکز کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ 16 مارچ کے حملے گائیڈڈ آپریشنز تھے جو فوجی تنصیبات، ٹیکنیکل سہولیات، گولہ بارود کے ڈپوز، ڈرون سے متعلق سامان اور طالبان رجیم کے استعمال میں آنے والے دہشت گرد سپورٹ انفراسٹرکچر پر مرکوز تھے جو پاکستان مخالف دہشت گرد پراکسیز کو سہولت فراہم کرتے تھے۔ موقع پر مشاہدہ کیے گئے ثانوی ذرائع نے عسکری مواد کی موجودگی کی تصدیق کی۔اگرچہ کسی بھی شہری کی ہلاکت افسوسناک ہے، احتساب کے لیے مکمل واقعات کے تسلسل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اس میں نشانہ بنائے گئے ٹارگٹ کی خفیہ انٹیلی جنس، سویلین ڈھانچوں کے اندر فوجی اثاثوں کی مشترکہ موجودگی اور طالبان رجیم کی ذمہ داری شامل ہے جس نے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو سویلین آبادی کے قریب رکھا۔
پاکستان نے کئی سالوں سے تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)جو اقوام متحدہ کی نامزد دہشت گرد تنظیم ہے اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو افغان سرزمین سے کام کر رہے ہیں۔ ان گروپس نے سرحد پار حملے کیے، جنگجوئوں کو تربیت دی اور خودکش بمبار بھیجے جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، اساتذہ اور مذہبی علماء کی ہلاکتیں ہوئیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین کو ایک ہمسایہ ریاست کے خلاف جارحیت کے لانچ پیڈ کے طور پر کیوں استعمال ہونے دیا جو سفارتی عہدوں اور بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان ایک غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیق کی حمایت کرتا ہے جس میں افغان پناہ گاہیں، سہولت کاری اور پاکستان مخالف دہشت گردوں کو دی جانے والی حمایت کا مکمل دائرہ کار شامل ہو۔








