پاکستان میں زرعی شعبہ کی جدیدکاری کو فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت،پی اے آر سی اور چین کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فیمسن گروپ کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

پاکستان میں زرعی شعبہ کی جدیدکاری کو فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت،پی اے آر سی اور چین کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فیمسن گروپ کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان میں زرعی شعبہ کی جدیدکاری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اور چین کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فیمسن گروپ کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت پی اے آر سی میں فیمسن ٹیکنالوجی ڈسپلے پارک کے قیام اور زرعی اختراع، تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔لیٹر آف انٹینٹ پر چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی اور فیمسن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک چن نے دستخط کئے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی ذاتی کاوشوں اور وژن جبکہ سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی معاونت سے ممکن ہوا جس کا مقصد پاکستان میں عالمی معیار کی زرعی ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ معاہدہ حکومت کے اس وژن کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت بین الاقوامی شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ فیمسن ٹیکنالوجی ڈسپلے پارک محققین، کسانوں، زرعی کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور نجی شعبے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی نمائش اور سیکھنے کا ایک قومی پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان زرعی صلاحیتوں سے مالا مال ملک ہے تاہم زرعی پیداوار میں اضافے، فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مہارت سے استفادہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی صف اول کی زرعی انجینئرنگ کمپنی کے ساتھ یہ تعاون پاکستان میں جدید، آزمودہ زرعی حل متعارف کرانے، تحقیق کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری و صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس موقع پر چیئرمین پارک ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے معاہدہ کو پی اے آر سی کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ فیمسن ٹیکنالوجی ڈسپلے پارک اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا جہاں عالمی معیار کی زرعی انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کو متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کے زرعی تحقیقی نظام کو جدید صنعتی ٹیکنالوجیز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس تعاون کے ذریعے سائنس دانوں، محققین، طلبہ، کسانوں اور زرعی کاروباری اداروں کو جدید عالمی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی مہارت اور مشترکہ تحقیقی مواقع سے براہِ راست استفادہ حاصل ہو گا۔ فیمسن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک چن نے پاکستان کی زرعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فیمسن گروپ علم کے تبادلے، جدت طرازی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے پاکستان کے زرعی اور لائیوسٹاک شعبوں کی پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

واضح رہے کہ لیٹر آف انٹینٹ کے تحت دونوں ادارے پارک میں فیمسن ٹیکنالوجی ڈسپلے پارک کے قیام کے امکانات کا مشترکہ طور پر جائزہ لیں گے جسے زرعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے، مشترکہ تحقیق، پیشہ ورانہ تربیت اور سرکاری اداروں، جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کے ایک موثر مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ یہ شراکت داری علم اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں عالمی معیار کے زرعی حل متعارف کرانے کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گی۔