سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ درحقیقت ریاست پاکستان اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے، میر سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ درحقیقت ریاست پاکستان اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

کوئٹہ۔ 23 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ درحقیقت ریاست پاکستان اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے محافظوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو پوری قوت سے کچل دیا جائے گا ۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہنے دی جائے گی اور ان کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع اور موثر بنایا جائے گا ۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک ریاستی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ شہدا کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت، عزم اور قومی یکجہتی کے ساتھ منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔