ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں سے متعلق الزامات کسی معتبر ثبوت کے بغیر عائد کیے گئے ہیں، انہیں مسترد کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں سے متعلق الزامات کسی معتبر ثبوت کے بغیر عائد کیے گئے ہیں، انہیں مسترد کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے کسی معتبر ثبوت کے بغیر کیے گئے ہیں اور ان میں افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ہر فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حق دفاع کے استعمال کے تحت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر منسلک دہشت گرد گروہ طالبان انتظامیہ کے تحت افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی اور معاونت حاصل کرنے والے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے تک محدود رہی ہیں جن میں احتیاط اور متناسب طاقت کے استعمال کے اصولوں کا مکمل خیال رکھا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ کا نوٹس لے۔ انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مسلسل سرپرستی کا بھی جائزہ لے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوحہ معاہدے کے تحت طالبان حکومت کی ذمہ داریوں کا احتساب کرے۔ترجمان نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حالیہ دھمکیوں کی بھی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا ملک کے سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستانی مفادات پر کسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا جس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ترجمان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید وسعت دینے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ سکندر مومنی کے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیا جس کے دوران انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وزیر داخلہ اور پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بھی فعال سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں ہونے والے اجلاسوں کے موقع پر کویت، مصر، اومان اور روس کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں جن میں کشیدگی میں کمی، علاقائی استحکام، بحری سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت بھی کریں گے جہاں وہ رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے 31ویں وزارتی اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور علاقائی امن، بات چیت اور تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ کینیڈا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا دورہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں اس نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تعاون، علاقائی امور اور عوامی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس نگرانی سے متعلق تازہ رپورٹ پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے پاکستان کی قانون سازی میں پیش رفت اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت 27 بین الاقوامی معاہدوں پر مسلسل عملدرآمد کے اعتراف کا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے رپورٹ کے مجموعی بیانیے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 2014ء میں جی ایس پی پلس سکیم میں شمولیت کے بعد پاکستان کی کامیابیوں کا متوازن جائزہ پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کا اہم ستون ہے جو برآمدات، روزگار، خواتین کی معاشی شمولیت اور غربت میں کمی کے لیے معاون ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان قانونی ذرائع سے افغان شہریوں کی سہولت کے لیے پرعزم ہے اور اب تک 90 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو تیسرے ممالک منتقل ہونے میں مدد فراہم کر چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں قیام کے لیے افغان شہریوں کے پاس قانونی دستاویزات ہونا ضروری ہیں اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد ملکی قوانین کے مطابق بے دخلی کے عمل سے مشروط ہوں گے تاہم انہوں نے کہا کہ سلامتی کے خدشات کے باوجود پاکستان عام افغان شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی نفرت یا عمومی منفی تاثر کو مسترد کرتا ہے۔ ترجمان نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد امن کے قیام کی کوششوں کے سلسلے میں اسلامی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے بھارت کے سزا یافتہ جاسوس کلبھوشن جادھو کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارتی سرگرمیوں کا واضح ثبوت ہے۔








