وزیراعظم کے رابطہ کار برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کےلئے سیاسی بیانیوں سے آگے بڑھ کر بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی، حکومت نے معیشت میں موجود اہم عدم توازن کو دور کرنے، توانائی، تجارت، ٹیرف اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانے سمیت ایسے اقدامات کئے ہیں جو ملک کو مستحکم اور مسابقتی معیشت کی جانب …
پائیدار معاشی ترقی کیلئے بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی، عوامی مکالمہ اور وفاق و صوبوں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے، رانا احسان افضل

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے رابطہ کار برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کےلئے سیاسی بیانیوں سے آگے بڑھ کر بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی، حکومت نے معیشت میں موجود اہم عدم توازن کو دور کرنے، توانائی، تجارت، ٹیرف اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانے سمیت ایسے اقدامات کئے ہیں جو ملک کو مستحکم اور مسابقتی معیشت کی جانب لے جا سکتے ہیں تاہم دیرپا کامیابی کےلئے حقائق پر مبنی عوامی مکالمہ اور وفاق و صوبوں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) میں ’’سسٹین ایبل پالیسی اکنامک بلیٹن‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے کہا کہ معاشی اصلاحات اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب ان پر بحث سیاسی نعروں کے بجائے حقائق اور درست معلومات کی بنیاد پر کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ عوام اور پالیسی سازوں کو معیشت سے متعلق معاملات کا جائزہ جذبات یا سیاسی اختلافات کے بجائے ٹھوس شواہد اور اعداد و شمار کی روشنی میں لینا چاہئے۔
رانا احسان افضل نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی، بجلی کے نرخوں میں اصلاح، پی آئی اے کی نجکاری، کسٹم ڈیوٹی میں کمی اور نئی ٹیرف پالیسی سمیت کئی اہم معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خام مال پر ٹیرف میں کمی اور تقریباً 400 ارب روپے کے محصولات مرحلہ وار ختم کرنے سے صنعت اور برآمدات کو فروغ ملے گا جبکہ حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کےلئے پانچ ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس بھی جاری کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اخراجات، توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات اب بھی اہم چیلنج ہیں جبکہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر تعاون، بہتر طرز حکمرانی اور قومی و صوبائی پالیسیوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں رانا احسان افضل نے کہا کہ معاشی اصلاحات کا جائزہ سیاسی بیانیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے کیونکہ تعمیری عوامی مکالمہ ہی طویل المدتی اصلاحات کےلئے قومی حمایت پیدا کر سکتا ہے۔ قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ ادارے نے دس سال بعد اکنامک بلیٹن دوبارہ جاری کیا ہے جس کا مقصد عوام، میڈیا اور پالیسی سازوں کو مختصر اور تحقیقی بنیادوں پر معاشی تجزیہ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بلیٹن اخباری مضامین اور طویل تحقیقی مقالوں کے درمیان موجود خلا کو پر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ شماروں میں موسمیاتی تبدیلی، تجارت اور دیگر ابھرتے ہوئے معاشی مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔سینئر ماہرِ معاشیات ڈاکٹر خاقان حسن نجیب نے سرکاری اخراجات میں اصلاحات، این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی، مالیاتی اختیارات کی مزید صوبوں کو منتقلی اور توانائی کے شعبے میں ہدفی سبسڈی، مسابقت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صرف ٹیکسوں میں اضافہ کر کے اور اخراجاتی نظام کی کمزوریوں کو نظرانداز کر کے دیرپا معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر نجیب نے زور دیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اصلاحات قومی ترجیح ہونی چاہئیں۔ توانائی کے شعبے کے حوالے سے ڈاکٹر نجیب نے تجویز دی کہ بجلی پر عمومی سبسڈی دینے کے بجائے قومی سماجی و معاشی رجسٹری (این ایس ای آر) کے ذریعے صرف مستحق افراد کو ہدفی سبسڈی دی جائے۔ انہوں نے بجلی کی تقسیم کے نظام کو مزید آزاد بنانے، تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان مسابقت پیدا کرنے اور مارکیٹ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی بھی حمایت کی تاکہ کارکردگی بہتر ہو اور گردشی قرضوں میں کمی لائی جا سکے۔ایس ڈی ٹی وی کے ڈائریکٹر اور سینئر صحافی طاہر دھندسہ نے کہا کہ دس سال بعد اکنامک بلیٹن کی بحالی خوش آئند پیش رفت ہے جو ہر ماہ شائع ہو کر مستند اعداد و شمار اور تحقیق پر مبنی معاشی تجزیہ پالیسی سازوں، میڈیا اور عوام تک پہنچائے گا۔








