ڈیرہ اسماعیل خان، گومل یونیورسٹی میں انکوائری کمیٹی کی کارروائی، مختلف فریقین کے بیانات قلمبند

:حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز اینڈ لائبریریز کی جانب سے جمعرات کے روز گومل یونیورسٹی کے مختلف انتظامی، مالی اور تدریسی امور کی تحقیقات کے لیے قائم اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا

پشاور۔ 23 جولائی (اے پی پی):حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز اینڈ لائبریریز کی جانب سے جمعرات کے روز گومل یونیورسٹی کے مختلف انتظامی، مالی اور تدریسی امور کی تحقیقات کے لیے قائم اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا۔گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان تر جمان کے مطابق کمیٹی کے کنوینر کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن داود خان تھے، جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور اور رجسٹرار یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں بطور اراکین شریک ہوئے۔دورے کے دوران انکوائری کمیٹی نے یونیورسٹی کے مختلف ملازمین، متاثرہ اہلکاروں اور متعلقہ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کی الگ الگ سماعت کی۔ کمیٹی نے تمام فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا اور ان کے بیانات باقاعدہ قلمبند کیے تاکہ حقائق کا غیر جانبدارانہ تعین کیا جا سکے اور شواہد کی روشنی میں سفارشات مرتب کی جا سکیں۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی کو گومل یونیورسٹی میں گورننس، انتظامی معاملات، مالی امور، بھرتیوں، سیکیورٹی، ہاسٹل مینجمنٹ اور طلبہ کے نظم و ضبط سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیر میرٹ بھرتیوں، انتظامی خامیوں اور دیگر شکایات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مؤقف اور شواہد حاصل کرے، ذمہ دار افراد کا تعین کرے، خلاف ضابطہ اقدامات کی نشاندہی کرے اور قانونی تقاضوں کے مطابق اصلاحی و تادیبی کارروائی کے لیے سفارشات مرتب کرے۔اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ انکوائری مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دی جا رہی ہے۔ تمام دستیاب ریکارڈ، دستاویزات اور متعلقہ افراد کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک جامع، حقائق پر مبنی رپورٹ محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کو پیش کی جائے گی۔انکوائری کمیٹی کو اپنی تفصیلی، شواہد پر مبنی رپورٹ مقررہ مدت کے اندر محکمہ اعلیٰ تعلیم کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق کمیٹی آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر مزید متعلقہ افراد اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی تاکہ انکوائری کو جامع، شفاف اور قابل اعتماد انداز میں مکمل کیا جا سکے۔