محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا اور تنظیمات المدارس خیبر پختونخوا کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا
خیبر پختونخوا کے علماء کرام کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں بھرپور تعاون کا اعلان

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جولائی (اے پی پی):محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا اور تنظیمات المدارس خیبر پختونخوا کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی، جن میں صدر متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا قاری احسان صاحب، ناظم وفاق المدارس خیبر پختونخوا و ضم اضلاع مفتی حسین احمد، مفتی مختار اللہ، مولانا یوسف شاہ اور مفتی ظفر صاحب سمیت دیگر علماء شامل تھے۔ متحدہ علماء بورڈ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔
تقریب میں ای او سی کوآرڈینیٹر خیبر پختونخوا شفیع اللہ خان، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر سہیل فاروقی، ڈاکٹر انعام اللہ خان یونیسیف ٹیم لیڈ خیبرپختونخوا، محکمہ صحت اور ای پی آئی کے اعلیٰ حکام، جبکہ یونیسیف، عالمی ادارہ صحت ، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی اے ) اور گیٹس فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے، اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر علماء کرام، محکمہ صحت اور ترقیاتی شراکت داروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مل کر سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم کو کامیاب بنائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کی صحت کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔








