پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلیم، تجارت اور میڈیا تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے،تاجک سفیر یوسف شریف زادہ

"پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلیم، تجارت، سیاحت اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، دونوں برادر ممالک کو باہمی روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔” — تاجک سفیر یوسف شریف زادہ

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):پاکستان میں جمہوریہ تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلیم، تجارت، سیاحت اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور دونوں برادر ممالک کو باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کے دروازے کھول رہا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان میڈیا اور عوامی روابط کے فروغ سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں نجی کنسلٹنسی آفس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک) کے مرکزی چیئرمین محمد صدیق انظر، میڈیا ورکرز آرگنائزیشن کے صدر کلیم شمیم، محمد شیراز، ملک منیر احمد، صوبیہ خان، مہوش ممتاز بیگ، عمران اشرف، پی ایف یو جے کے مرکزی سیکرٹری جنرل شکیل احمد، آر آئی یو جے کے صدر طارق عثمانی، سینئر صحافی تزین اختر، گلزار گیلانی اور دیگر شخصیات نے تاجک سفیر کا پرتپاک استقبال کیا۔ تاجک سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن معروف عبدالرحمان بھی سفیر کے ہمراہ موجود تھے۔ تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ نے کہا کہ تاجکستان پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابن سینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی خطے کے قدیم اور ممتاز طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، جنہیں تعلیم، تجارت، سیاحت اور میڈیا کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تاجک سفارت خانہ دونوں ممالک کے درمیان ہر ممکن تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔تقریب کے دوران صحافیوں نے سفیر سے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، میڈیا کے تبادلوں اور تعلیمی روابط سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے انہوں نے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور نجی شعبہ، میڈیا اور تعلیمی ادارے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔