وفاقی آئینی عدالت نے سول مقدمے میں وکلا کی جانب سے التواء کی درخواست پر برہمی کا اظہار

وفاقی آئینی عدالت نے سول مقدمے میں وکلا کی جانب سے التوا کی درخواست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مقدمات کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، التوا کا یہی رویہ جاری رہا تو زیرالتوا مقدمات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا جو عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سول مقدمے میں وکلا کی جانب سے التوا کی درخواست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مقدمات کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، التوا کا یہی رویہ جاری رہا تو زیرالتوا مقدمات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا جو عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔

جمعرات کوسماعت کے دوران ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے او آر) رفاقت حسین شاہ نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے وکیل خیبر پختونخوا میں سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خیبر پختونخوا میں لینڈ سلائیڈنگ تو ہو سکتی ہے، سیلاب کیسے؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ باہر جا کر آپ ہی کہتے ہیں کہ مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے جبکہ ہر روز عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

اگر یہی رویہ رہا تو مقدمات بڑھتے رہیں گے اور یہ سب عوام کے ساتھ ظلم ہے۔عدالت نے کہا کہ جرمانہ کریں تو بھی وکلا برا مانتے ہیں اور عدم پیروی پر مقدمہ خارج کریں تو بھی وکلا ناراض ہوتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کیس میں صرف ایک دن کا التوا دیا جائے گا اور ایک دن کے التوا پر بھی 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا جبکہ زیادہ التوا لینا ہے تو دو لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے تو عدالتی جرمانے بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا خود بھی دلائل دے سکتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے اے او آر کے نظام سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو اے او آر کا عہدہ ختم کردیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں ایک اجلاس کے دوران اے او آرز کو ختم کرنے پر بھی بات ہوئی تھی اور وہ خود اس اجلاس میں شریک تھے۔بعد ازاں عدالت نے سول مقدمے کی سماعت مختصر التوا کے ساتھ مقامی سطح تک ملتوی کردی۔