وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، سہیل آفریدی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے اور مقدمے کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کےلئے منظور کر لی، فریقین کو نوٹس جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، سہیل آفریدی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے اور مقدمے کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو مقدمے کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔درخواست شیر افضل مروت نے دائر کر رکھی ہے جس میں سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو کالعدم قرار دینے اور علی امین گنڈاپور کو بطور وزیراعلیٰ بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس کیس میں آئینی نکتہ کیا ہے؟شیر افضل مروت نے موقف اختیار کیا کہ آئین کی منشا یہ ہے کہ کوئی عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی استعفیٰ دے سکتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا، دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تاہم گورنر کی جانب سے اسے بھی شاید منظور نہیں کیا گیا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہے تاکہ وزیراعلیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کیا جا سکے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ جب بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ دینے کی ہدایت کی تو وہ نااہل تھے ۔شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا۔








