وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کی طرز پر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تین قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے ، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کی طرز پر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تین قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جیل رول نمبر 197 کے تحت قیدی کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی، رول 197 میں کوئی ابہام نہیں، عدالت کا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نجی ہسپتال ہی کیوں؟ سرکاری ہسپتال کیوں نہیں؟ قیدیوں کا علاج پولی کلینک یا پمز ہسپتال میں کیوں نہیں ہوسکتا؟انہوں نے کہا کہ نجی ہسپتال میں علاج جیل مینوئل کے خلاف ہے۔جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے، جیل مینوئل بالکل واضح ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ اگر جیل مینوئل پر عمل نہیں کرنا تو پھر اس کا کیا فائدہ؟ دوران سماعت وکیل نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے مقدمے کا حوالہ دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسی بات تھی تو آپ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے، آپ اسی مقدمے میں فریق کیوں نہ بنے؟وکیل نے بتایا کہ یہ مقدمہ آئینی درخواست کے ذریعے دائر کیا گیا تھا، آئینی درخواست کی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں ہوسکتی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے اور کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔








