وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے’’بلوچستان کے لئے ایک ایس ایچ او کافی ہے ‘‘ سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او والی بات کا اگلا حصہ یہ تھا کہ یہ بات علامتی طور پر کہہ رہا ہوں تاہم جان بوجھ کر میرے بیان کا ایک حصہ بیان کیا گیا ۔
بلوچستان سے متعلق میرے بیان کا صرف ایک حصہ بدنیتی سے پیش کیا گیا، میرے نوٹس سے قبل ہی پولیس نے ادویات کنٹینرز چھوڑ دیئے تھے ، محسن نقوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے’’بلوچستان کے لئے ایک ایس ایچ او کافی ہے ‘‘ سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او والی بات کا اگلا حصہ یہ تھا کہ یہ بات علامتی طور پر کہہ رہا ہوں تاہم جان بوجھ کر میرے بیان کا ایک حصہ بیان کیا گیا ۔
جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال پر وضاحت کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں نے یہ بات کی تھی کہ ہماری سکیورٹی فورسز بہت دلیر اور باہمت ہے، ایک ایس ایچ او حالات ٹھیک کر سکتا ہے ،میری اگلی بات یہ تھی کہ میں یہ علامتی طور پر بات کر رہا ہوں لیکن بدنیتی سے میری بات کا اگلا حصہ کاٹ کر صرف ایک بات کو بیان کیا جاتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے جتنی فکر ان کے خاندان کو ہے اتنی ہی حکومت کو بھی ہے، شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کرنے کی وجہ کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کا جواب عدالت میں داخل کروا دیا گیا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے زیادہ بات نہیں کروں گا، شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی معاملے پر ضلعی انتظامیہ نے جواب عدالت میں داخل کر دیا ہے۔
ادویات کنٹینرز سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے نوٹس سے قبل ہی پولیس نے ادویات کنٹینرز چھوڑ دیئے تھے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی کے پاس کنٹینر کے اندر دیکھنے کی صلاحیت نہیں جیسے ہی ڈرائیور نے بتایا کہ ادویات کا کنٹینر ہے تو پولیس نے اسے چھوڑ دیا، میرے نوٹس سے قبل ہی ادویات کے کنٹینرز چھوڑ دیئے ہیں۔








