بیوریجز کی صنعت وسیع تر معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ڈاکٹر فیصل ہاشمی

کوکا کولا کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر اور بیوریجز ایڈوائزری فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے کہا ہے کہ بیوریجز کی صنعت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، یہ شعبہ وسیع ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے، شفاف اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کے ذریعے صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتا ہے، وفاقی دارالحکومت میں …

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):کوکا کولا کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر اور بیوریجز ایڈوائزری فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے کہا ہے کہ بیوریجز کی صنعت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، یہ شعبہ وسیع ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے، شفاف اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کے ذریعے صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتا ہے، وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 میں ممتاز کارپوریٹ رہنمائوں، پالیسی سازوں اور معاشی ماہرین نے پائیدار معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کوکا کولا کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر اور بیوریجز ایڈوائزری فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے حکومت کے حالیہ پالیسی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بعض شعبوں میں ریلیف اقدامات قابلِ قدر ہیں، جبکہ نجی شعبہ بھی معیشت کے استحکام کے لیے دیگر صنعتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیوریجز کی صنعت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو اس شعبے کے طویل مدتی کاروباری عزم اور پاکستان کی مارکیٹ میں موجود امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی بیوریجز صنعت میں وسیع اور بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ترقی کی گنجائش موجود ہے جو وسیع تر معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام کاروباری اداروں کے لیے مساوی مواقع اور منصفانہ، کاروبار دوست ٹیکس نظام قائم کیا جائے تو یہ شعبہ شفاف ٹیکس تعمیل، معیاری پیداوار، وسیع سپلائی چین اور روزگار کے ذریعے ملکی معیشت میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابل پیش گوئی، مستحکم اور شفاف پالیسی فریم ورک پر مبنی مالیاتی و معاشی ماحول عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے اور پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے متوازن مالیاتی پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے رسمی شعبے کے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بڑے غیر رسمی شعبے کو بھی ضابطہ جاتی نگرانی اور ٹیکس نظام کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر رسمی کاروباری اداروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے سے قومی ٹیکس بیس وسیع ہوگا، عالمی معیار کی پیداوار کے ذریعے صارفین کے تحفظ میں بہتری آئے گی اور عالمی منڈیوں و سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معیشت کے بارے میں مثبت پیغام جائے گا۔