سعودی عرب میں نیشنل سینٹر فار پرائیویٹائزیشن نے وزراء کونسل کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نجکاری کے لیے منتخب کیے گئے شعبوں میں ملازمین اور کارکنوں سے متعلق قواعد میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔عکاظ اور الوطن اخبار کے مطابق کابینہ کی قرار داد نمبر 318 کے حوالے سے سرکاری گزٹ ’ام القری‘ نے تفصیلات جاری کی ہیں جن میں قوانین اور انتظامات کی منظوری دیتے ہوئے واضح …
سعودی عرب ،پرائیویٹائز کیے جانے والے شعبوں کے ملازمین کے لیے نئے قواعد کی منظوری
ریاض ۔26ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب میں نیشنل سینٹر فار پرائیویٹائزیشن نے وزراء کونسل کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نجکاری کے لیے منتخب کیے گئے شعبوں میں ملازمین اور کارکنوں سے متعلق قواعد میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔عکاظ اور الوطن اخبار کے مطابق کابینہ کی قرار داد نمبر 318 کے حوالے سے سرکاری گزٹ ’ام القری‘ نے تفصیلات جاری کی ہیں جن میں قوانین اور انتظامات کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت میں تبدیلی اور نجکاری کے لیے مخصوص کیے گئے شعبوں کے ملازمین اور کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جائے۔
نئی ترامیم میں کہا گیا ہے کہ ملازمت کی مدت کو (تبدیلی یا ٹرانسفرکے بعد) مسلسل مدت تصور کیا جائے گا، نجکاری کے بعد اسے منقطع نہیں سمجھا جائے گا۔اس قانون کا اطلاق ملازمت کے اختتام اور باقی ماندہ چھٹیوں پر بھی کیا جائے گا۔مالی ذمہ داریاں سابق اور نئی انتظامیہ کے درمیان تقسیم ہوں گی۔ سابق ادارہ ملازم کی منتقلی سے قبل اس کے پاس گزاری گئی مدت کے مطابق واجبات ادا کرے گ
ا، جبکہ نئی انتظامیہ منتقلی کے بعد کی مدت کے مالی امور کی ذمہ دار ہوگی۔ملازمین کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ترمیم شدہ ضوابط میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ملازمت کے اختتام پر تمام واجبات جن میں چھٹیوں کے بقایا جات بھی شامل ہیں کا حساب ملازم کو ملنے والی آخری تنخواہ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔









