وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجع طامی البقمی کے ساتھ اجلاس ، زراعت، لائیوسٹاک، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجع طامی البقمی کے ساتھ اجلاس ، زراعت، لائیوسٹاک، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجع طامی البقمی کے ساتھ اجلاس میں زراعت، لائیوسٹاک، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ فریقین کی جانب سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ، برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مضبوط سیاسی روابط کو عملی اقتصادی اور زرعی تعاون میں تبدیل کیا جائے گا۔ اجلاس میں سعودی وزیر زراعت کے حالیہ دورے کے بعد پیش رفت اور باہمی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں پیش رفت کے لیے قائم مشترکہ تکنیکی ٹیم کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے سعودی عرب کو پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بالخصوص باسمتی چاول، حلال گوشت، لائیوسٹاک مصنوعات اور سبز چارے کی برآمدات بڑھانے پر زور دیا۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ سعودی عرب کی چاول کی مجموعی درآمدات میں پاکستانی چاول کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے، جبکہ بھارت کا حصہ تقریباً 90 فیصد ہے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معیار، مسابقت، رسد کی مقدار، پیکجنگ اور تجارتی تقاضوں سے متعلق مسائل حل کرکے سعودی منڈی میں پاکستانی چاول کا حصہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کی زرعی نمائشوں میں شرکت اور پاکستانی باسمتی چاول کی تشہیری سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔گوشت اور لائیوسٹاک کی برآمدات کے حوالے سے پاکستان نے اپنے وسیع لائیوسٹاک وسائل اور سعودی عرب کو حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔اس موقع پر بتایا گیا کہ سعودی تکنیکی جائزے کے بعد پاکستان کے 31 مذبح خانوں میں سے 17 کو منظوری دی جا چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے سعودی سرمایہ کاروں کو جدید اور زیادہ پیداواری صلاحیت کے حامل مذبح خانوں اور ان سے منسلک لائیوسٹاک فارمز کے قیام میں سرمایہ کاری کی تجویز بھی دی، جس کے لیے پاکستان کے معروف کاروباری گروپس کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

ان منصوبوں سے بیماریوں سے محفوظ سپلائی چین قائم کرنے اور گوشت کی برآمدی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی تعاون کے لیے متعین کردہ نو ترجیحی شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں چاول، گوشت و لائیوسٹاک، سبز چارہ اور اونٹنی کا خشک دودھ شامل ہیں۔ دونوں جانب سے نجی شعبے کی شمولیت، کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عملی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔سعودی سفیر نے پاکستانی زرعی مصنوعات کی درآمدات بڑھانے میں اپنے ملک کی آمادگی کا اظہار کیا تاہم اس کے لیے معیار، قیمت، مقدار اور پیکجنگ سمیت بین الاقوامی تجارتی تقاضوں پر پورا اترنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ سعودی حکام کے ساتھ رابطوں اور درپیش مسائل کے حل کے لیے سعودی سفارت خانے کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ قائم کردہ مشترکہ تکنیکی نظام کو موثر طور پر بروئے کار لاتے ہوئے تجارتی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور باہمی تعاون کے متعین کردہ شعبوں میں پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔

مزید خبریں