اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے فی ایکڑ 70 من گندم کی شاندار پیداوار حاصل کرنے والے پاکستانی کسانوں کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے زرعی شعبے کی ایک قابل ذکر کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فصلوں کی پیداوار میں بہتری معیاری بیجوں، کھادوں کے متوازن استعمال اور جدید زرعی طریقہ ہائے کار اپنانے کے مثبت نتائج …
فصلوں کی پیداوار میں بہتری معیاری بیجوں، کھادوں کے متوازن استعمال اور جدید زرعی طریقہ ہائے کار اپنانے کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے فی ایکڑ 70 من گندم کی شاندار پیداوار حاصل کرنے والے پاکستانی کسانوں کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے زرعی شعبے کی ایک قابل ذکر کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فصلوں کی پیداوار میں بہتری معیاری بیجوں، کھادوں کے متوازن استعمال اور جدید زرعی طریقہ ہائے کار اپنانے کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے، فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہ صرف قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنائے گا بلکہ گندم کی برآمدات اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاطمہ فرٹیلائزر کے زیر اہتمام کسانوں کی شاندار کارکردگی کو سراہنے اور ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں منعقدہ تقریب ’’سرسبز کی جیت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کامیاب کسانوں کو مبارک باد دی اور ان کی محنت، لگن اور جدید زرعی طریقے اپنانے کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے زرعی ترقی کے فروغ اور کسان برادری کی معاونت کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین کرمانی اور محکمہ زراعت پنجاب کی کاوشوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔رانا تنویر حسین نے کسانوں کی تربیت، جدید زرعی معلومات کی فراہمی اور کھادوں کے متوازن استعمال کے فروغ میں فاطمہ فرٹیلائزر کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ زرعی پیداوار میں بہتری اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت اعزاز حاصل کرنے والے تقریباً تمام کامیاب کسانوں نے سرسبز نائٹروفوس اور کین کھادوں کے استعمال کے ذریعے صوبائی اور ضلعی سطح پر نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ سرسبز کھادوں کے حوالے سے اپنے مثبت ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیاری زرعی مداخل اور موثر تکنیکی رہنمائی فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی زرعی ترجیحات میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، کسانوں کی آمدن میں بہتری اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے جامع قومی گندم پالیسی متعارف کرائی ہے، جس میں گندم کی مجوزہ امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے اور قومی ضروریات کے تحفظ کے لیے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کے سٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کی حکمت عملی شامل ہے۔انہوں نے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے اہم اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں زرعی قرضوں تک بہتر رسائی، قومی بیج پالیسی اور قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری اور نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) اور قومی زرعی تحقیقی مرکز (نارک) سپیڈ بریڈنگ، سمارٹ گرین ہائوسز اور بحالیِ زراعت جیسے اقدامات کے ذریعے زرعی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، زمین کی زرخیزی کی بحالی اور زرعی وسائل کا موثر استعمال یقینی بنانا ہے۔قومی ترقی میں کسانوں کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کسان پاکستان کے غذائی تحفظ کے حقیقی محافظ ہیں اور ان کی خوشحالی ملک کی زرعی و معاشی ترقی سے براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت، نجی شعبے، تحقیقی اداروں اور کسان برادری کے درمیان مضبوط اشتراک عمل ضروری ہے تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری زرعی مداخل اور بہتر طریقہ ہائے کاشت کے ثمرات ملک بھر کے کسانوں تک پہنچائے جا سکیں۔وفاقی وزیر نے ’’سرسبز کی جیت‘‘ کے انعقاد اور کسانوں کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے پر فاطمہ فرٹیلائزر کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات جدت، جدید زرعی طریقوں اور بہتر پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں اور پاکستان کو ایک خوشحال، پیداواری اور غذائی طور پر محفوظ ملک بنانے کے قومی مقصد میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔








