اگر بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم سے بھارت کو نہیں روکتی تو اسے ان جرائم میں شریک تصور کیا جائے گا، سردار مسعود خان

استنبول ۔ 30 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم سے بھارت کو نہیں روکتی تو اسے ان جرائم میں شریک تصور کیا جائے گا ۔ کشمیر کے مجبور اور مقہورعوام کے حق میں ترکی کی آواز سب سے بلند اور جدا ہے جس کے لیے آزاد کشمیر اور …

استنبول ۔ 30 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم سے بھارت کو نہیں روکتی تو اسے ان جرائم میں شریک تصور کیا جائے گا ۔ کشمیر کے مجبور اور مقہورعوام کے حق میں ترکی کی آواز سب سے بلند اور جدا ہے جس کے لیے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام ترک حکومت ، خاص طور پر صدر طیب اروان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اسلام آباد ، دہلی ، اسلامی تعاون تنظیم اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر دو ٹوک اور اور غیر مبہم انداز میںکشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے ۔ یہ بات صدر آزاد کشمیر نے استنبول ذائم یونیورسٹی میں تین روزہ بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام فلسطین کی آزادی اور آزاد فلسطینی ریاست کے لیے و ہی جذبات رکھتے ہیں جو وہ کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے رکھتے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات میں باہم مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیرنے کہا کہ دونوں خطوں کے عوام کے حق آزادی اور حق خود ارادیت سے انکار کر کے انہیں اپنی ہی سر زمین میں اجنبی بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا جہاں بین الاقوامی برادری کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہے وہاں پر بین الاقوامی آرڈر کے کامیابی کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔کشمیر کے بارے میں بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ بھارت کا لازمی حصہ ہے حقیقت سے بالکل برعکس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ستر سال سے بھارت کشمیریوں کو قتل اور زخمی کر رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کی بے حرمتی کر رہا ہے اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا ہے کہ کشمیری بھارت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کی سر زمین خالی کر دے اور اپنا فوجی قبضة ختم کر دے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور اپنی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دے ۔ اب بین الاقوامی برادری کا ایک بڑا حصہ بھی اپنی خاموشی توڑ کر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرے ۔ گزشتہ سال جون میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ اور اس میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں رپورٹ اور بعد ازاں برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے ایسی ہی رپورٹس اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی سوچ میں ایک تبدیلی آ رہی ہے ۔ برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹس کی رپورٹس میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک بین الاقوامی انکوائری کمیشن تشکیل دے جو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرح بھارت بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مسترد کر کے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال اور ماورائے عدالت نوجوانوں کو قتل کر کے اُنہیں گمنام قبروں میں دفن کر دیتا ہے ۔ جس کے خلاف اب دنیا میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔ قبل ازیں مقبوضہ کمشیر میں صدمے اور ذہبنی دبائو سے جنم لینے والی ذہنی اور نفسیاتی امراض کے بحران کے موضوع پر میڈی پول یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے مصدقہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1989ء سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو بھارت کی فوج نے قتل کیا ۔ ان میں سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں گرفتار کر کے دوران حراست تشدد سے ہلاک کیا گیا ۔ مقبوضہ علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں کشمیریوں کے قتل کے نتیجہ میں بچے ، یتیم ہوئے ، خواتین بیوہ ہوئیں اور ایسی خواتین کی بڑی تعداد بھی جنہیں اپنے شوہروں کے زندہ یا مارے جانے کے بارے میں حتمی طور پر کوئی علم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے ان گنت واقعات ہوئے ۔سال 2016ء کے بعد قتل و غارت اور تشدد کے واقعات میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا ۔ میڈ سین فرنٹیرز (ایم ایس ایف ) کی 2015ء کی ایک رپورٹ جو یونیورسٹی آف کشمیر سرینگر کے تعاون سے تیار کی گئی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اٹھارہ لاکھ افراد جو وادی کی مجموعی آبادی کا 45 فیصد ہیں شدید ذہنی امراض کا شکار اور ان ذہنی امراض کا براہ راست تعلق ، تشدد اور صدمات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی دبائو کے ساتھ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے وادی کا دس اضلاع کے پانچ ہزار چھ سو گھرانوں کا سروے کرنے کے بعد بتایا کہ مقبوضہ وادی کے بالغ آبادی کے اکیالیس فیصد لوگ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں ۔ چھبیس فیصد تشویش یا فکر مندی کے نفسیاتی مرض میں مبتلا ہیں اور انیس فیصد افراد پوسٹ ٹراما سٹریس کا شکار ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کی 93 فیصد آبادی کی ذہنی امراض اور پریشانیوں کی وجہ بالواسطہ یا بلا واسطہ کشمیر کا تنازعہ ہے ۔ کیونکہ ذہنی مریضوں کی سات فیصد وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو مرتے یا زخمی ہوتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صدمات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں اب وبائی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں خود کشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ حال ہی میں ماہرین نے مقبوضہ وادی میں خود کشی کے 164 واقعات تفصیلی تحقیقات کیں۔ خود کشی کے ان 164میں 114 کا تعلق خواتین سے تھا جبکہ 50 کا تعلق مردوں سے تھا ۔ کشمیر کے المیے سے سب سے زیادہ وہاں کی خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیںجن میںذہنی امراض کی تعداد زیادہ ہے ۔ مقبوضہ وادی میں ذہنی امراض پر تحقیقات کرنے والوں نے اپنی رپورٹس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جب تک ذہنی پریشانیوں کا سبب بننے والے بنیادی مسئلہ کو حل نہیں کیا جاتا ذہنی امراض پر قابو پانا ممکن نہیں کیونکہ کشمیر کے ہر گھر میں المیہ اور صدمہ کی ایک درد ناک کہانی ہے جو پورے خاندان کو ذہنی طور پر متاثر کر رہی ہے ۔ بعد ازاں صدر سردار مسعود خان نے ایران کے ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو بھی دیا جبکہ استنبول ذائم یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد بلات سے ملاقات بھی کی۔

مزید خبریں

Leave a Reply