سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے ڈائمر پرائیویٹ فاریسٹس ورکنگ پلان میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے ملازمین اور لکڑی کے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا، جبکہ نگرانی اور تصدیقی عمل مکمل ہونے تک لکڑی کی نقل و حمل کے لیے ٹرانزٹ لائسنس روکنے کا فیصلہ کیا۔
سینٹ کی ذیلی کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کی ڈائمر پرائیویٹ فاریسٹس ورکنگ پلان میں شفافیت کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):سینٹ کی ذیلی کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے ڈائمر پرائیویٹ فاریسٹس ورکنگ پلان میں شفافیت کی ہدایت کرتے ہوئے ملازمین اور لکڑی کے ڈیٹا کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا جبکہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک کہ لیز ہولڈرز کی جسمانی چیکنگ مکمل نہ ہو جائے، لاگنگ ٹارگٹس کی تصدیق نہ ہو جائے اور مناسب نگرانی مکمل طور پر قائم نہ ہو جائےتب تک لکڑی کی نقل وحمل کے لئے ٹرانزٹ لائسنس مکمل طور پر روک رکھے جائیں گے۔
امور کشمیر،گلگت بلتستان اور ریاستی سرحدی علاقوں پر قائم سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے پرائیویٹ جنگلات کے لیے جنگلات کے تحفظ کے ورکنگ پلان کے نفاذ، انتظام اور مجموعی شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کی جبکہ سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزارت کشمیر امور کے سیکرٹری اور چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس نے 2021ء سے 2050ء تک کے 30 سالہ جنگلات کے ورکنگ پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کے جنگلات مقامی طور پر پرائیویٹ ملکیت میں ہیں تاہم مقامی برادریوں نے جنگلات کے امور کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کے لیے سائنسی مینجمنٹ سکیم کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں 122,863 ایکڑ پر محیط ایک جامع پلان تیار کیا گیا جو چھ جنگلات رینجز پر مشتمل ہے اور 343 کمپارٹمنٹس میں تقسیم ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، کٹائی صرف مردہ، مرتے ہوئے، بیمار، بالغ اور زیادہ بالغ درختوں تک محدود ہے تاکہ وسائل کے پائیدار تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ملٹی ڈسپلنری ویلیڈیشن ٹیموں کو ہر کمپارٹمنٹ کی سخت جانچ کے لیے تعینات کیا گیا ہے جو جدید جی آئی ایس میپنگ اور جی پی ایس ٹریکنگ کا استعمال کرتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی جانبداری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ری ویلیڈیشن کے دوران 125 کمپارٹمنٹس کی جانچ کی گئی جن میں سے 72 آپریشنز کے لیے تجویز کیے گئے جبکہ 53 نامناسب قرار پائے اور ان کی سفارش نہیں کی گئی۔ فی الحال چھ کمپارٹمنٹس کے لیے فیلنگ آرڈرز جاری کر دیئے گئے ہیں جن سے ابتدائی طور پر 380,481 کیوبک فٹ لکڑی کی نکاسی متوقع ہے جبکہ کل تجویز کردہ پیداوار 5.4 ملین کیوبک فٹ سے زائد ہے۔کمیٹی کے اراکین نے پچھلے 26 سالوں کے دوران پالیسی کی عدم مطابقت اور مختلف مداخلتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1990ء کی دہائی سے حکومت کا رویہ اکثر آمدنی کی پیداوار کو تحفظ پر ترجیح دیتا رہا جس سے مقامی اعتماد متاثر ہوا اور غیر قانونی کٹائی کے واقعات کو فروغ ملا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ مضبوط تصدیق اور سخت ٹرانسپورٹ مانیٹرنگ غیر قانونی لکڑی کی منتقلی کو روکنے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔سب کمیٹی کے کنوینر نے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کئی سخت ہدایات جاری کیں۔ جنگلات کے محکمے کو فوری طور پر تمام 1,200 جنگلات کے محکمے کے ملازمین کا مکمل تفصیلی ریکارڈ اور سروس ریکارڈز فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمے کو 2003ء سے اب تک کے تمام متعلقہ ساختی دستاویزات اور تاریخی فائلوں کی کمیٹی اراکین کے ساتھ شیئر کرنا ہوگی تاکہ قریبی جانچ کی جا سکے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک کہ لیز ہولڈرز کی جسمانی چیکنگ مکمل نہ ہو جائے، لاگنگ ٹارگٹس کی تصدیق نہ ہو جائے اور مناسب نگرانی مکمل طور پر قائم نہ ہو جائےتب تک لکڑی کی نقل وحمل کے لئے ٹرانزٹ لائسنس مکمل طور پر روک رکھے جائیں گے۔







