اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پسے ہوئے اور محروم طبقات کی مدد ہم سب کا دینی فریضہ ہے، حضور پاک یتیموں اور مسکینوں پر خصوصی شفقت فرماتے تھے، معاشرے کے صاحب ثروت طبقے کو اسلامی تعلیمات پر ان کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے یتیموں، مسکینوں سمیت کمزور طبقات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ ان …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا خبیب فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان میں یتیم بچوں کے دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پسے ہوئے اور محروم طبقات کی مدد ہم سب کا دینی فریضہ ہے، حضور پاک یتیموں اور مسکینوں پر خصوصی شفقت فرماتے تھے، معاشرے کے صاحب ثروت طبقے کو اسلامی تعلیمات پر ان کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے یتیموں، مسکینوں سمیت کمزور طبقات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں جناح کنونشن سنٹر میں خبیب فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان میں یتیم بچوں کے دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات اور حضور پاک کے اسوہ حسنہ کے حوالے سے ہمارا یقین ہے کہ جو مال و دولت اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں عطا کرتا ہے وہ ہمارے پاس ایک امانت ہے، وہ ہماری نہیں ہے بلکہ ہم اس کو خرچ کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ صدر نے یتیم بچوں، مساکین اور معاشرے کے کمزور طبقات کی بہبود پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے قرآنی تعلیمات حضور پاک کے اسوة حسنہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں کہا گیا کہ یتیم کو حقارت سے مت دیکھو اور جو سوال کرنے والا ہے کہ اس کا بھی خیال رکھو۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم بھی یتیم تھے اور ان کی اللہ تعالیٰ نے جس احسن انداز میں پرورش کا انتظام کیا وہ بے مثال اور ہمارے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔ انہوں نے بچوں پر زور دیا کہ وہ قرآن اور حضور پاک کے اسوة حسنہ کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں، خود میں اعتماد پیدا کریں۔ صدر نے اس موقع پر مختلف انبیاءکرام کا بھی حوالہ دیا جو یتیم تو نہیں تھے مگر ان کی پرورش ایسے حالات میں ہوئی کہ ان کے والدین ان کے ساتھ نہیں تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کا خاص طور پر ذکر کیا جن کی پرورش ایک بادشاہ کے گھر میں ہوئی۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلام میں یتیموں کے حقوق کا خصوصی طور پر خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور پاک یتیموں اور مسیکنوں پر خصوصی شفقت فرماتے تھے، ہمارے پاک پیغمبر نے اپنی امت کو بھی مستحقین کی مدد کی تلقین فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاکستان میں مستحقین کی معاونت کے لئے خصوصی احکامات دیئے گئے ہیں۔ صدر نے کہا کہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر ان کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے یتیموں، مسکینوں سمیت کمزور طبقات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کیونکہ پسے ہوئے اور محروم طبقات کی مدد ہم سب کا دینی فریضہ ہے۔ صدر نے یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور رہائشی سہولیات کے حوالے سے خبیب فاﺅنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی طرف سے جس انداز سے یتیموں کا خیال رکھا جاتا ہے اور تعلیم کی فراہمی اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں خبیب فاﺅنڈیشن کی خدمات قابل تحسین ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات میں بھی اس کا خصوصی درس دیا گیا ہے۔







