اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر قدرتی وسائل کے غیردانشمندانہ اور بے رحمانہ استعمال کے باعث دنیا آج پینے کے پانی کی قلت، جنگلات کے رقبے میں واضع کمی، زمینی، ہوائی، آبی اور دریائی آلودگی، زمینی بگاڑ، سیلاب، زمینی کٹاوَ، بھوک و بدحالی اور صحت کے مختلف مسائل سے دوچار ہے تاہم ان مسائل …
عالمی سطح پر قدرتی وسائل کے غیردانشمندانہ اور بے رحمانہ استعمال کے باعث دنیا مختلف مسائل سے دوچار ہے ، سینیٹر مشاہداللہ خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر قدرتی وسائل کے غیردانشمندانہ اور بے رحمانہ استعمال کے باعث دنیا آج پینے کے پانی کی قلت، جنگلات کے رقبے میں واضع کمی، زمینی، ہوائی، آبی اور دریائی آلودگی، زمینی بگاڑ، سیلاب، زمینی کٹاوَ، بھوک و بدحالی اور صحت کے مختلف مسائل سے دوچار ہے تاہم ان مسائل کا حل قدرتی وسائل کے ضیاع کو روکر ان کے ہر سطح پر پائیدار استعمال کو یقینی بنانے سے ممکن ہے۔ یہاںجاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابقوہ ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں بین الاقوامی گلوبل گرین گروتھ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چار روزہ بین لاقوامی کانفرنس میں پاکستان سمیت اٹھائیس ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ ہفتہ کو اختتام پذیر ہونے والی اس کانفرنس میں شامل پاکستانی وفد کی نمائندگی وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر سرسبز معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے توانائی، پانی، آبپاشی، ماحول دوست اور پائیدار شہری و دیہی منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں مختلف منصوبوں میں کام کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے اس عالمی کانفرنس میں پاکستان میں سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پراجیکٹس، گرین پاکستان پروگرام، ماحول دوست آبپاشی اور زراعت، بہتر شہری ٹرانسپورٹ نظام سے متعلق مختلف منصوبوں پر بات کی۔








